LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغان طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کریں: پاکستان وزیراعظم سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات جج پر مبینہ رشوت کا الزام: لاہور بار کا وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف ’پیکا ایکٹ‘ تحت مقدمہ درج کرانے کا اعلان پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت پائیداری میں اہم پیش رفت کر رہی ہے: برطانوی ہائی کمشنر اسحاق ڈار کی ایس سی او اجلاس کیلئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت آصفہ بھٹو کی یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر میں یومِ اقوامِ متحدہ کی تقریب میں شرکت فرانس میں مزدوروں کے اعلان کے بعد دوبارہ مظاہرے شروع، 135 گرفتار پی ٹی آئی میں اختلافات، بیرسٹر گوہر نے واضح ہدایات جاری کردیں پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کل پاکستان پہنچیں گی وزیراعظم کا دسمبر کے پہلے ہفتے میں دورۂ روس متوقع: ذرائع آئی ٹی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کے مواقع موجود ہیں: حافظ نعیم الرحمان پاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی زلمے خلیل زاد کا پاکستان پر افغانوں کو طالبان کیخلاف استعمال کرنے کا الزام، فیکٹ چیک جاری وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس متوقع، صدر پوتن سے ملاقات ہوگی پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے

Web Desk

19 August 2026

آبنائے ہرمز کی کشادگی کے لیے ایران کے امریکا کے سامنے مطالبات، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کا تقاضا ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کے عوض امریکی انتظامیہ کے سامنے اپنے باقاعدہ مطالبات پیش کر دیے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹس کے مطابق، ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad MoU) کے تمام نکات پر من و عن اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔ اس اہم یادداشت کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام جیو پولیٹیکل محاذوں پر ہر قسم کی فوجی کارروائیاں اور حملے روکنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ ایران نے ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں اور سمندری حدود کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط شامل تھی۔ اس کے بدلے ایران نے آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلامعاوضہ آمد و رفت کی ضمانت دی تھی۔ اس کے علاوہ اس معاہدے کے تحت امریکا نے ایران پر عائد تمام اقتصادی و مالیاتی پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے، منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی اور ایران کی جنگ بعد ازاں تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے معاشی منصوبے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، معاہدے کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک امریکا ان تمام تسلیم شدہ شرائط کی پاسداری نہیں کرتا، آبنائے ہرمز سے تجارتی آمد و رفت بحال نہیں کی جائے گی۔