LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں: رانا ثناء اللہ دشمن سے طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے: ایران آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات برطانیہ کا اپنے شہریوں کو سعودی ایئرپورٹس کی طرف سفر نہ کرنے کا مشورہ امریکی صدر کا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان موٹروے پولیس کی ایمانداری، شاہراہ پر ملنے والے لاکھوں روپے اصل مالک کے حوالے کر دیے روس کے شہر ارکتسک میں محقق کی ہلاکت: طاعون کے پھیلاؤ اور لیبارٹری حادثے کے تمام دعوے مسترد روسی صدر کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، علاقائی بحران کے حل میں مدد کی پیشکش برطانیہ میں امریکی اہلکاروں کے زیر استعمال ایئر بیس میں داخلے پر 2 افراد گرفتار امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی آج یوکرینی حکام سے ملاقات طے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 اہلکار زخمی حوثیوں کے حملے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کی سعودیہ کیلئے پروازیں معطل یورپی یونین کا بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت کیلئے بحری مشن مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ امریکا کا وینزویلا کے معزول صدر نکولس اور انکی اہلیہ پر امریکی شہریوں پر تشدد کی سازش کا الزام فرانس میں تعلیمی نظام کی ناقص صورتحال کیخلاف طلبہ کا ملک گیر احتجاج تیسرے ہفتے داخل

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

Web Desk

19 August 2026

زلزلہ ہو، سیلاب یا پھر جنگ، کسی بھی ناگہانی آفت اور بحران کی گھڑی میں سب سے پہلی اور سب سے بڑی ضرورت انسانیت کے مددگار ہاتھ کی ہوتی ہے۔ یہی ہاتھ ‘ہیومینیٹرین ورکرز’ (امدادی کارکن) کی صورت میں دنیا بھر میں آفت زدگان اور متاثرین تک پہنچتے ہیں۔ انسانی امداد کا بنیادی مقصد رنگ، نسل، مذہب یا کسی بھی تفریق کے بغیر ضرورت مند اور بے بس انسانوں تک بروقت مدد اور راحت پہنچانا ہے۔

19 اگست 2003ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر پر ایک ہولناک بم حملہ ہوا تھا جس میں 22 امدادی کارکن اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ اس دردناک سانحے اور انسانیت کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی یاد میں ہر سال 19 اگست کو “عالمی ہیومینیٹرین ڈے” (World Humanitarian Day) منایا جاتا ہے۔

عصرِ حاضر کے چیلنجز اور امدادی کارکنوں کا کردار آج کی دنیا کو جنگوں، مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں، اجرت و بے گھر ہونے اور خوراک کے شدید بحران جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے خطرناک اور کٹھن حالات میں امدادی کارکن نہ صرف متاثرین تک خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات پہنچاتے ہیں، بلکہ ان کی ٹوٹتی ہوئی سانسوں کو امید اور زندگی کا احساس بھی دیتے ہیں۔

بحران خواہ کوئی بھی ہو، انسانی جان کا تحفظ اور اس کی مدد پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ جنگی اور متاثرہ علاقوں میں اپنی جانیں جوکھم میں ڈال کر کام کرنے والے ہیومینیٹرین ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر کے دور دراز اور آفت زدہ علاقوں میں بلا تفریق و بغیر کسی رکاوٹ کے امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے والے یہ کارکن دنیا کے لیے امید اور ہمدردی کی علامت ہیں، اور موجودہ عالمی حالات میں ان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور قابلِ قدر ہو چکا ہے۔