LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کینیا میں سیاحوں کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 5 امریکیوں سمیت 7 افراد ہلاک راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت، افواجِ پاکستان کا زبردست خراج عقیدت مقبوضہ مغربی کنارے یہودی آبادکاری منصوبہ، برطانیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج 20 جولائی سے اب تک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو روکا گیا، حوثی گروپ کا دعویٰ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب بند کرنے پر غور شروع کر دیا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک کوئی رقم جاری نہیں ہوئی، سربراہ ایران مرکزی بینک امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ناکہ بندی توڑ کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس داخل شہزادہ ہیری کا رواں ماہ فیملی سمیت امریکا سے برطانیہ واپس آنے کا فیصلہ ٹرمپ کا ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے سخت اقتصادی کارروائی کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو باقر قالیباف کی عراقی وزیراعظم سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عالمی فوجداری عدالت کے عہدیداروں پر امریکی پابندیاں، انتونیو گوتریس کا اظہار تشویش ترکیہ کو شام میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نیتن یاہو اسرائیلی فوج کی پہلی بار ہند رجب کے خاندان پر فائرنگ کی تصدیق موساد سربراہ کا شامی وزیر خارجہ سے رابطہ، شام میں ترک فوج کی موجودگی پر گفتگو

سعودی آرامکو کا ایشیائی ممالک کو تیل فراہم کرنے کا نیا منصوبہ

Web Desk

18 August 2026

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ‘سعودی آرامکو’ نے آبنائے ہرمز میں جاری شدید کشیدگی اور بحری آمدورفت میں درپیش رکاوٹوں کے پیشِ نظر اپنے ایشیائی خریداروں کو متبادل راستوں سے خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آرامکو بعض ایشیائی ریفائنریوں سے نجی مذاکرات کر رہی ہے، جس کے تحت ‘عرب میڈیم’ اور ‘عرب ہیوی’ خام تیل متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے قریب سمندر میں ‘جہاز سے جہاز’ (Ship-to-Ship Transfer) منتقلی کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔

ستمبر میں لوڈ ہونے والے اس تیل کی فراہمی کا مقصد آبنائے ہرمز کے پرخطرسندھ کے راستوں سے بچ کر ایشیائی منڈیوں، بالخصوص بھارت، تک سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر متعدد عالمی شپنگ کمپنیاں اس خطے سے سفر سے گریز کر رہی ہیں۔ آرامکو پہلے ہی بحیرہ احمر کی بندرگاہ ‘ینبع’ اور مصر کی بحیرہ روم میں واقع بندرگاہ ‘سیدی کریر’ کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی پیشکش کر چکی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی خلیج کے اندر سے تیل باہر منتقل کر کے اپنی برآمدات جاری رکھی ہوئی ہیں۔