LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی سعودی عرب میں بدھ تک شدید گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی عراق میں بس اور ٹرک میں تصادم، 7 سیاح جاں بحق، 23 زخمی آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے: ایران سعودی عرب میں قوانین کی خلاف ورزی پر 14 ہزار غیر ملکی گرفتار یہودی آباد کاروں کا مسجد اقصیٰ میں زبردستی تلمودی رسومات ادا کرنے کے واقعات میں اضافہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا ہر 30 منٹ میں ایک جان لینے لگی: ڈبلیو ایچ او انڈونیشیا میں زلزلے سے اموات 51 ہو گئیں، 341 آفٹر شاک ریکارڈ امریکی ریاست انڈیانا میں طوفان، سیلاب سے 6 افراد ہلاک، لاکھوں افراد بجلی سے محروم

آزاد کشمیر میں انتخابی عمل مکمل، ن لیگ 25 نشستوں کے ساتھ سرفہرست

Web Desk

16 August 2026

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے مرحلے میں ضلع باغ کے دو اہم حلقوں کے نتائج کی تکمیل کے ساتھ ہی انتخابی عمل کا بڑا حصہ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ 23 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے بعد سامنے آنے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق دونوں بڑے سیاسی حریفوں—پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی—نے ایک، ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔

حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار ضیاء القمر نے مسلم لیگ (ن) کے مشتاق منہاس کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ دوسری جانب، حلقہ ایل اے 16 شرقی باغ سے مسلم لیگ (ن) کے سردار میر اکبر خان نے پیپلز پارٹی کے سردار قمر الزمان کو 3,830 ووٹوں کے نمایاں فرق سے ہرا کر نشست اپنے نام کی۔

ان نتائج کے بعد قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی مجموعی نشستوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے، جس سے اس کی حکومت سازی کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہو چکی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہتے ہوئے ایوان میں مرکزی اپوزیشن پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اب تمام تر نظریں راولاکوٹ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں ہونے والے متوقع ضمنی انتخابات پر جم گئی ہیں، جو نئے ایوان کی حتمی سیاسی ہیئت طے کریں گے۔