LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان

پھیلتا ایبولا وائرس تاریخ کی مہلک ترین وبا ثابت ہوسکتا ہے: عالمی ادارہ صحت نے خبردار کر دیا

Web Desk

14 August 2026

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے متنبہ کیا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں پھیلنے والی ایبولا وائرس کی نئی لہر اگر اپنی موجودہ رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو یہ تاریخ کی مہلک ترین وبا میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او، ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ لہر 2014ء سے 2016ء کی تباہ کن وبا کا ریکارڈ بھی توڑ سکتی ہے، جس میں 11 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

رواں سال کانگو میں 15 مئی 2026ء کو ایبولا کی باقاعدہ تصدیق کی گئی تھی، جس کے بعد سے اب تک 4,300 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ 2,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او افریقہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنابی کا کہنا ہے کہ میڈیکل تحقیقات کے مطابق وائرس کا پھیلاؤ فروری میں ہی شروع ہو گیا تھا، تاہم ابتدائی دنوں میں غلط تشخيص کے باعث اسے ملیریا یا ٹائیفائیڈ سمجھا جاتا رہا۔

خطرناک ‘بنڈی بوگیو’ قسم اور ویکسین کی عدم دستیابی

  • نایاب وائرس: 2026ء کی یہ وبا ایبولا وائرس کی انتہائی نایاب بنڈی بوگیو (Bundibugyo) قسم کے باعث پھیلی ہے، جو اس سے قبل 2007ء اور 2012ء میں دیکھی گئی تھی۔

  • علاج کا فقدان: وائرس کی اس مخصوص قسم کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا حتمی دوا دستیاب نہیں ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے حکام کے مطابق آئندہ تین ماہ کے اندر وائرس کی منتقلی اور پھیلاؤ کی رفتار کو محدود کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم علاج اور ویکسین نہ ہونے کے باعث وائرس کا مکمل خاتمہ فی الوقت ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔