LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ علاقائی استحکام کیلئے اہم ہے: فلسطینی صدر پاکستان کی قیادت نے امریکا ایران جنگ کے دوران جرأت مندانہ کردار ادا کیا: ناروے بلوچستان میں گیس کی فراہمی معطل، بولان میں پائپ لائن دھماکے سے متاثر پاکستان کی بڑی جیت، چاول برآمدگی کیس میں بھارت کی اپیل خارج یمنی حوثیوں کا سعودی عرب سے جارحیت روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ علاقائی استحکام کیلئے اہم ہے: فلسطینی صدر

Web Desk

13 August 2026

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین سیاسی و سیکیورٹی صورتحال، خصوصاً سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ دفاعی معاہدے’ (Mecca Joint Defence Agreement) پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے ترکیہ کی جانب سے فلسطینی عوام کے لیے مسلسل سیاسی و سفارتی حمایت اور غزہ کے مظلومین کے لیے انسانی و طبی امداد کی مسلسل فراہمی پر صدر اردوان اور ترکیہ کی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ علاقائی سلامتی، باہمی دفاع اور استحکام کے لیے انتہائی اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ محمود عباس نے مقبوضہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں جاری غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ “غزہ فلسطینی ریاست کا ایک ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور غزہ کے بغیر کوئی آزاد فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آ سکتی۔”

اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ ترکیہ ہر عالمی و علاقائی فورم پر فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پائیدار اور جامع تعمیرِ نو فوری طور پر شروع کرنے کے لیے پہلے علاقے میں سازگار حالات کا پیدا ہونا اور پائیدار امن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطین میں قیامِ امن کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔