LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشت گردی پر سیکیورٹی کے ساتھ عوامی مسائل کا حل بھی لازمی دھاندلی سے عوامی منڈیٹ چھینا گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، ملک گیر پرامن احتجاج کا اعلان: محمود خان اچکزئی کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا تربیتی طیارہ حادثے کا شکار، دونوں پائلٹ شہید ترقیاتی منصوبوں کی قربانی دے سکتے ہیں، سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا: گورنر کے پی کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج: اقدام کالعدم قرار دینے کی استدعا پاکستان کی معیشت رواں مالی سال 4 فیصد سے زائد ترقی کرے گی: وزیر خزانہ گورنر راج: خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے تمام 57 افسران فارغ وفاق کے پاس خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا: اسحاق ڈار خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی: عطااللہ تارڑ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جیل میں وکلا سے ملاقات کرانے کا حکم ایران جانے والے 135 تجارتی جہاز واپس موڑ دیے: امریکی فوج انکم ٹیکس گوشواروں میں غلطی پر ایف بی آر کا جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 900 پوائنٹس گر گیا جبوتی سے یمن جانے والی تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 139 افراد ہلاک سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، 72 مزدور ہلاک

میر رضا کی پراسرار موت: سندھ حکومت کا حقائق سامنے لانے کیلئے جوڈیشل انکوائری کا اعلان

Web Desk

9 August 2026

سندھ حکومت نے میر رضا کی پراسرار موت کے معاملے پر سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات کی روشنی میں حقائق سامنے لانے کے لیے جوڈیشل انکوائری کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی منظوری دی گئی، جس کی سربراہی سندھ ہائیکورٹ کے جج کریں گے۔ کمیشن کی تشکیل کے بعد تمام تر پولیس تحقیقاتی ٹیموں کو بھی اسی کے ماتحت کر دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کیس سے متعلق اب تک کی تفتیش میں کسی ہائی پروفائل شخصیت کے ملوث ہونے کا عنصر سامنے نہیں آیا، تاہم معاملے کی حساسیت کے پیش نظر جوڈیشل انکوائری وقت کی ضرورت ہے۔

کیس کی پیشرفت میں اہم موڑ اس وقت آیا جب قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ کے بعد تفتیش کا رخ یکسر تبدیل ہو گیا اور اغوا کے ابتدائی مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 شامل کر دی گئی۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ کیس کی پرانی تحقیقاتی ٹیم کو بھی تبدیل کر کے ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں 5 رکنی نئی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جس کا پہلا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندان کو یہ بھی اعتماد دیا گیا ہے کہ وہ جس پولیس افسر پر بھی چاہیں گے، اسے اس نئی ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا۔