LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی معیشت رواں مالی سال 4 فیصد سے زائد ترقی کرے گی: وزیر خزانہ گورنر راج: خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے تمام 57 افسران فارغ وفاق کے پاس خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا: اسحاق ڈار خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی: عطااللہ تارڑ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جیل میں وکلا سے ملاقات کرانے کا حکم ایران جانے والے 135 تجارتی جہاز واپس موڑ دیے: امریکی فوج انکم ٹیکس گوشواروں میں غلطی پر ایف بی آر کا جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 900 پوائنٹس گر گیا جبوتی سے یمن جانے والی تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 139 افراد ہلاک سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، 72 مزدور ہلاک پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودیہ کیخلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ٹرمپ نے بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس میں سے کسی ایک کا نام تبدیل کرکے ’بحر ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز دے دی روسی تیل تنصیبات پر حملوں کی صورت میں امریکا کی یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنےکی دھمکی بھارتی پرواز میں پاور بینک سے آگ لگ گئی، حیدرآباد میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی

ایران جانے والے 135 تجارتی جہاز واپس موڑ دیے: امریکی فوج

Web Desk

12 October 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے سلسلے میں 135 بحری جہازوں کو واپس موڑا گیا، جبکہ 4 تجارتی جہازوں کو ناکارہ اور پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 10 آئل ٹینکروں کو تباہ کیا گیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق تازہ کارروائی خلیجِ عمان میں کی گئی جہاں امریکی لڑاکا طیارے نے پاناما کے پرچم تلے سفر کرنے والے تجارتی جہاز ‘ایم وی اوشن مولیکا’ (اریکا سن) کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے اس جہاز کو ناکہ بندی توڑنے سے روکنے کے لیے امریکی وارننگز دی گئیں، تاہم عملے کی جانب سے انتباہ نظرانداز کرنے پر گائیڈڈ گولہ بارود کا استعمال کر کے اس کا انجن اور پروپلشن سسٹم ناکارہ بنا دیا گیا۔ سینٹ کام کے مطابق حملے میں عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا، جبکہ کارروائیوں کا مقصد ایرانی سمندری حدود میں مبینہ خلاف ورزیوں اور تجارتی نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رکھنا ہے۔