وفاق کے پاس خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا: اسحاق ڈار
Web Desk
12 October 2026
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک مشکل مگر ناگزیر فیصلہ تھا کیونکہ وفاقی حکومت کے پاس ریاست کے تحفظ کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ خیبر پختونخوا اور سیکیورٹی صورتحال پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کر رہی ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے افغان طالبان حکومت سے سخت مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کو اسلحے و مالی معاونت کی فراہمی فوری بند کرے، بصورت دیگر افغانستان کو اس کے نتائج خود بھگتنا ہوں گے۔ اسحاق ڈار نے مزید انکشاف کیا کہ سانحہ جعفر ایکسپریس کا منصوبہ بھی افغانستان میں تیار کیا گیا تھا، جبکہ بھارت خطے میں کلبھوشن یادیو جیسے نیٹ ورک کے ذریعے دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
11 اکتوبر جمہوریت کا سیاہ ترین دن، کے پی کے عوام ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں: بیرسٹر گوہر علی خان
12 October 2026
ہمارا واسطہ آئین شکنوں سے ہے، حالات بلوچستان میں خراب ہیں تو وہاں ایمرجنسی لگائیں: علامہ راجہ ناصر عباس
12 October 2026
دہشت گردی پر سیکیورٹی کے ساتھ عوامی مسائل کا حل بھی لازمی
12 October 2026
دھاندلی سے عوامی منڈیٹ چھینا گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، ملک گیر پرامن احتجاج کا اعلان: محمود خان اچکزئی
12 October 2026
کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا تربیتی طیارہ حادثے کا شکار، دونوں پائلٹ شہید
12 October 2026
ترقیاتی منصوبوں کی قربانی دے سکتے ہیں، سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا: گورنر کے پی
12 October 2026
کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج: اقدام کالعدم قرار دینے کی استدعا
12 October 2026
پی ٹی آئی نے احتجاج کی جعلی ویڈیوز پھیلائیں: عظمیٰ بخاری
12 October 2026