LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
11 اکتوبر جمہوریت کا سیاہ ترین دن، کے پی کے عوام ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں: بیرسٹر گوہر علی خان ہمارا واسطہ آئین شکنوں سے ہے، حالات بلوچستان میں خراب ہیں تو وہاں ایمرجنسی لگائیں: علامہ راجہ ناصر عباس دہشت گردی پر سیکیورٹی کے ساتھ عوامی مسائل کا حل بھی لازمی دھاندلی سے عوامی منڈیٹ چھینا گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، ملک گیر پرامن احتجاج کا اعلان: محمود خان اچکزئی کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا تربیتی طیارہ حادثے کا شکار، دونوں پائلٹ شہید ترقیاتی منصوبوں کی قربانی دے سکتے ہیں، سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا: گورنر کے پی کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج: اقدام کالعدم قرار دینے کی استدعا پاکستان کی معیشت رواں مالی سال 4 فیصد سے زائد ترقی کرے گی: وزیر خزانہ گورنر راج: خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے تمام 57 افسران فارغ وفاق کے پاس خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا: اسحاق ڈار خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی: عطااللہ تارڑ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جیل میں وکلا سے ملاقات کرانے کا حکم ایران جانے والے 135 تجارتی جہاز واپس موڑ دیے: امریکی فوج انکم ٹیکس گوشواروں میں غلطی پر ایف بی آر کا جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 900 پوائنٹس گر گیا

دہشت گردی پر سیکیورٹی کے ساتھ عوامی مسائل کا حل بھی لازمی

Web Desk

12 October 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور ایڈوائزری کونسل کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں پائیدار امن، سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ فورم نے پولیس اور سی ٹی ڈی (CTD) کی عملی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید آلات، مؤثر اسلحہ، نئی گاڑیوں اور بکتر بند گاڑیوں (APCs) سمیت درکار نفری کی فراہمی کی منظوری دی۔ اپیکس کمیٹی نے واضح کیا کہ صوبے میں پائیدار امن اور سیکیورٹی کا براہ راست تعلق تعلیم، صحت اور عوامی معیار زندگی سے ہے جو ماضی میں نظر انداز ہوتا رہا، لہٰذا متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے مقامی تجاویز کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں گے۔