LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور: گھر کی چھت گرنے سے بچوں سمیت تین افراد جاں بحق، ایک زخمی خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں، محسن نقوی خام تیل کی قیمتیں 2 ماہ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئیں صنعتی شعبے میں تیزی، بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں 5.77 فیصد اضافہ ایران اس وقت امریکا سے رابطے میں ہے، معاہدہ کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر 100,000 ڈالر فیس کا معاملہ: امریکی اپیلز کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دی ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر اتفاق امریکی صدر ٹرمپ کی مشیروں اور کابینہ اراکین سے ملاقات،ایران کیخلاف بڑےحملوں پرغور ایران جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے انکار سابق برطانوی وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کہ وجہ بنا: ایرانی سفیر حوثیوں نے ٹیلی کمیونیکیشن پر سعودی حملوں کو سنگین غلطی قرار دیدیا تہران کی اپنے پڑوسی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں: ایرانی چیف جسٹس مودی کے ویڈیو پیغام پر بالی وڈ اداکارہ دیا مرزا کا شدید برہمی کا اظہار امریکا اور ایران کے شہری تنصیبات پر حملے جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہیں: ہیومن رائٹس واچ فرانس کے جنگلات میں آتشزدگی، ڈیڑھ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ایران کا خطے کی ریاستوں کے شہریوں کو امریکی تنصیبات سے 500 میٹر دور رہنے پر زور

ابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی

Web Desk

24 July 2026

امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ایران میں ممکنہ جنگی اقدامات سے گریز کرنے کے اشاروں اور مخالفت کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور بڑے فوجی آپریشن کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایکزیوس’ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں اب تک ایران کو کچھ زیادہ بڑا نقصان یا “تکلیف” نہیں پہنچی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ ایران کے اندر مزید بڑی عسکری کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آگے کی جانے والی نئی کارروائیاں “آپریشن ایپک فیوری” (Operation Epic Fury) سے بھی کہیں زیادہ شدید اور بڑی ہو سکتی ہیں۔

تاہم، نئے اور انتہائی سخت حملوں کا انتباہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے یہ واضح بھی کیا کہ فی الحال انہوں نے ان آئندہ اور بڑے حملوں کا کوئی باضابطہ حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔