LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد ضرور آئیں گے، پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا کے حالات خراب ہیں، گورنر راج پر غور ہو رہا ہے: بیرسٹر عقیل موٹروے سمیت اہم قومی شاہراہیں آج شام سے ٹریفک کیلئے مکمل بند رہیں گی چینی صدر کا ٹرمپ پر تائیوان کو اسلحہ فروخت روکنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا امکان طالبان دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کریں، اسحاق ڈار کا مطالبہ احتجاج، دھرنے جاری، حافظ نعیم الرحمان کا لیوی ختم کرانے تک پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ کی وضاحت جاری کر دی ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ مفاہمت اور مکالمے سے سیاسی و معاشی استحکام آئے گا: چودھری سرور پنجاب میں امن و امان کی صورتحال حوصلہ افزا، مختلف آپریشنز جاری ہیں: مریم نواز افغانستان سے منشیات سمگلنگ میں ملوث گروہ کیخلاف امریکا، پاکستان کی مشترکہ کارروائی پوتن اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، مشرق وسطیٰ اور خلیج کی صورتحال پر گفتگو پاک روس مشترکہ فوجی مشق دروزبہ 9 اور پاک عمان مشق وشاق الجبل 2 کا آغاز سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن دوبارہ فعال کردی

ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر 100,000 ڈالر فیس کا معاملہ: امریکی اپیلز کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دی

Web Desk

25 July 2026

امریکی ریاست بوسٹن کی پہلی یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایچ ون بی (H-1B) کام کے ویزوں پر عائد 100,000 ڈالر فیس کو دوبارہ بحال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ تین رکنی ججز کے پینل نے فیصلے میں کہا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ صدر کے پاس اس طرح کی بھاری رقم عائد کرنے کا قانونی اختیار موجود ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد نچلی عدالت کا وہ حکم نامہ برقرار رہے گا جس نے اس متنازعہ فیس پر فی الحال روک لگا دی تھی۔

یہ فیصلہ جون میں ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکن کی جانب سے دیے گئے فیصلے کی توثیق کرتا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 100,000 ڈالر کی رقم دراصل ایک “ٹیکس” کی مانند ہے اور امریکی آئین کے تحت ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے نہ کہ امریکی صدر کے پاس۔ ستمبر 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیس کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کا غلط استعمال کرکے مقامی امریکی ورکرز کی جگہ سستے غیر ملکی ماہرین کو رکھا جا رہا ہے، جس کے بعد 20 ڈیموکریٹک اٹارنی جنرلز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عام طور پر ایچ ون بی ویزا کے لیے کمپنیاں 2,000 سے 5,000 ڈالر کے درمیان فیس ادا کرتی تھیں، لیکن اس 100,000 ڈالر کی غیر معمولی فیس کی وجہ سے درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ قانون دانوں اور امیگریشن ماہرین کے مطابق، اپیلز کورٹ کے اس تاز ترین فیصلے کے بعد ان غیر ملکی تکنیکی ماہرین اور ورکرز کو بڑی راحت ملے گی جن کی نوکریوں کے حقوق یا ویزا کے عمل اس بھاری فیس کی وجہ سے خطرے میں پڑ گئے تھے۔