LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں، محسن نقوی خام تیل کی قیمتیں 2 ماہ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئیں صنعتی شعبے میں تیزی، بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں 5.77 فیصد اضافہ ایران اس وقت امریکا سے رابطے میں ہے، معاہدہ کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر 100,000 ڈالر فیس کا معاملہ: امریکی اپیلز کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دی ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر اتفاق امریکی صدر ٹرمپ کی مشیروں اور کابینہ اراکین سے ملاقات،ایران کیخلاف بڑےحملوں پرغور ایران جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے انکار سابق برطانوی وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کہ وجہ بنا: ایرانی سفیر حوثیوں نے ٹیلی کمیونیکیشن پر سعودی حملوں کو سنگین غلطی قرار دیدیا تہران کی اپنے پڑوسی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں: ایرانی چیف جسٹس مودی کے ویڈیو پیغام پر بالی وڈ اداکارہ دیا مرزا کا شدید برہمی کا اظہار امریکا اور ایران کے شہری تنصیبات پر حملے جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہیں: ہیومن رائٹس واچ فرانس کے جنگلات میں آتشزدگی، ڈیڑھ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ایران کا خطے کی ریاستوں کے شہریوں کو امریکی تنصیبات سے 500 میٹر دور رہنے پر زور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی ریکارڈ

ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر 100,000 ڈالر فیس کا معاملہ: امریکی اپیلز کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دی

Web Desk

25 July 2026

امریکی ریاست بوسٹن کی پہلی یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایچ ون بی (H-1B) کام کے ویزوں پر عائد 100,000 ڈالر فیس کو دوبارہ بحال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ تین رکنی ججز کے پینل نے فیصلے میں کہا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ صدر کے پاس اس طرح کی بھاری رقم عائد کرنے کا قانونی اختیار موجود ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد نچلی عدالت کا وہ حکم نامہ برقرار رہے گا جس نے اس متنازعہ فیس پر فی الحال روک لگا دی تھی۔

یہ فیصلہ جون میں ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکن کی جانب سے دیے گئے فیصلے کی توثیق کرتا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 100,000 ڈالر کی رقم دراصل ایک “ٹیکس” کی مانند ہے اور امریکی آئین کے تحت ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے نہ کہ امریکی صدر کے پاس۔ ستمبر 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیس کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کا غلط استعمال کرکے مقامی امریکی ورکرز کی جگہ سستے غیر ملکی ماہرین کو رکھا جا رہا ہے، جس کے بعد 20 ڈیموکریٹک اٹارنی جنرلز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عام طور پر ایچ ون بی ویزا کے لیے کمپنیاں 2,000 سے 5,000 ڈالر کے درمیان فیس ادا کرتی تھیں، لیکن اس 100,000 ڈالر کی غیر معمولی فیس کی وجہ سے درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ قانون دانوں اور امیگریشن ماہرین کے مطابق، اپیلز کورٹ کے اس تاز ترین فیصلے کے بعد ان غیر ملکی تکنیکی ماہرین اور ورکرز کو بڑی راحت ملے گی جن کی نوکریوں کے حقوق یا ویزا کے عمل اس بھاری فیس کی وجہ سے خطرے میں پڑ گئے تھے۔