LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز کی اوپن سورسنگ کے لیے گرین سگنل پولیو ورکرز قوم کے ہیرو، پنجاب سے پولیو کا 100 فیصد خاتمہ ہمارا عزم ہے: مریم نواز آزاد کشمیر: سکول جانے والی گاڑی دریائے نیلم میں گر گئی، 4 بچے جاں بحق میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی سمیت مزید 2 تحقیقاتی کمیٹیاں بنا دیں ندیم نانی والا کی بہن کو پروٹوکول دینا اور چھوڑنا پولیس کو مہنگا پڑگیا بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت کہنیوں میں اسکریو ڈرائیور سے سوراخ کیے گئے، حنا جاوید قتل کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی پاک بھارت جنگ کے دوران 11طیارے گرائے گئے، تمام جنگیں رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، صدر ٹرمپ میلانیا ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان اولیشکی میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان حملوں کی صورت میں خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنایا جائے گا، ایران ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا، سعودی فوجی اتحاد پیرس میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، 12 سالہ بچی سمیت 5 افراد شدید زخمی پاکستانی انڈر 21 ہاکی ٹیم سلطان آف جوہر ہاکی کپ کے فائنل میں پہنچ گئی زمینی کارروائی کی تو ایران حملہ آوروں کا قبرستان بن جائے گا: پاسداران انقلاب ترکیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد حل قرار دیدیا

ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

Web Desk

20 July 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی لائے تو سفارت کاری اب بھی ممکن ہے، کیونکہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے بجائے 3 بحری جہازوں پر حملے کیے، اور وہ اب بھی میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جس کے جواب میں امریکا کارروائیاں کر رہا ہے۔ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ شدید معاشی بحران کے باعث تہران میں پالیسی پر شدید اختلافات موجود ہیں، جہاں ایک حلقہ مذاکرات کا حامی جبکہ دوسرا سخت مؤقف پر قائم ہے، اور اگر مذاکرات کے حامی کامیاب ہوتے ہیں تو یہ مثبت پیش رفت ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، تاہم اس کا بوجھ صرف واشنگٹن پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دیگر ممالک کو بھی بحری وسائل، عسکری سازوسامان یا مالی معاونت کی صورت میں اس مشترکہ ذمہ داری میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔