LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم اسرائیلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کی دوڑ، نیتن یاہو اور اپوزیشن کے متضاد دعوے

سندھ میں رواں سال خسرہ کے باعث 53 بچوں کے جاں بحق ہونے کا انکشاف

Web Desk

19 July 2026

سندھ میں رواں سال خسرہ کے باعث 53 بچوں کے جاں بحق ہونے کی افسوسناک اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ محکمہ صحت کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے پہلے 26 ہفتوں کے دوران ملک بھر کے مختلف اضلاع میں اس موذی مرض سے مجموعی طور پر 102 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف صوبہ سندھ میں خسرہ کے 7105 مشتبہ کیسز سامنے آئے، جن میں سے 2280 کیسز کی تصدیق لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ہو چکی ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں اب تک خسرہ کے مجموعی طور پر 29066 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 8309 کیسز لیبارٹری سے تصدیق شدہ ہیں۔ دوسری جانب ماہرینِ صحت نے خسرہ کے اس بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ بیماری پر قابو پانے کے لیے بروقت ویکسینیشن، مؤثر نگرانی اور ہنگامی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں، بصورتِ دیگر صورتِ حال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔