LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں

ماہرینِ فلکیات نے 11 سال پرانی تصاویر میں چھپا نیا سیارہ دریافت کر لیا

Web Desk

16 July 2026

ماہرینِ فلکیات نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایک نیا ایکسوپلینیٹ (سیارہ) دریافت کیا ہے، جسے اب تک براہِ راست تصویر بندی (Direct Imaging) کے ذریعے دیکھا جانے والا سب سے مدھم ترین سیارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع یہ سیارہ مشتری اور زحل کی طرح ایک دیو ہیکل گیسی کرہ ہے، جسے “بیٹا پکٹورس ڈی” کا نام دیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر یہ سیارہ گزشتہ 11 سالوں سے رصدگاہوں کے ریکارڈ میں موجود تھا مگر ستارے کی شدید روشنی اور اپنے انتہائی مدھم ہونے کے باعث نظروں سے اوجھل رہا۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا اور آکسفورڈ کے سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم جب پہلے سے معلوم سیارے کا مشاہدہ کر رہی تھی تو اس دوران اس نئے سیارے کی نشاندہی ہوئی۔ اس دریافت کی تصدیق یورپی جنوبی رصدگاہ کے پرانے محفوظ شدہ ڈیٹا اور جیمز ویب خلائی دوربین (JWST) کے مشاہدات سے بھی ہوئی ہے۔ تحقیقی جریدے “دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز” میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، نیا سیارہ اپنے نظامِ شمسی کے دیگر دو سیاروں (بیٹا پکٹورس بی اور سی) کے مقابلے میں مرکزی ستارے سے کہیں زیادہ فاصلے پر گردش کر رہا ہے۔