LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنائیں: چین مولانا نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی: فیاض الحسن امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف

امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنائیں: چین

Web Desk

14 July 2026

چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ جہاز رانی کو جلد از جلد بحال کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تجارتی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کو برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی عسکری محاذ آرائی کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے ملحقہ ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس اہم گزرگاہ میں بحری آمدورفت کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ خواہش ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتی تعاون کے ذریعے اس تنازع کا پرامن حل تلاش کریں۔