LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی

لاہور، واٹر لینڈ پارک میں 9 سالہ بچی کی ہلاکت، منیجرسمیت 3 ذمہ دار گرفتار

Web Desk

13 July 2026

صوبائی دارالحکومت لاہور کے ایک نجی واٹر لینڈ پارک میں انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث 9 سالہ معصوم بچی کے جاں بحق ہونے کا انتہائی لرزہ خیز اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے پارک کے مینیجر سمیت تین کلیدی عہدیداروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق، 9 سالہ رامین فاطمہ سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے وہاں موجود پانی کی نکاسی کے کھلے مین ڈرین ہول میں جا گری اور تیز بہاؤ کے باعث ڈرینج پائپ کے اندر پھنس گئی۔ ترجمان نے انکشاف کیا کہ یہ لرزہ خیز حادثہ پول کے مین ڈرین ہول پر حفاظتی جالی (سیفٹی نیٹ) نصب نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا، جو پارک انتظامیہ کی کھلی لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پولیس کے مطابق، ننھی رامین فاطمہ کی موت دم گھٹنے اور کھلے مین ہول میں پھنسنے کی وجہ سے ہوئی۔ اس ہولناک واقعے کے بعد تھانہ باٹا پور میں مقتولہ بچی کی والدہ کی مدعیت میں متعلقہ دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی فرانزک اور تفتیشی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی تمام تر تکنیکی و قانونی پہلوؤں سے باریک بینی سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے پولیس نے غفلت کے مرتکب تین مرکزی کرداروں— جن میں واٹر پارک کا جنرل مینیجر، سیکیورٹی انچارج اور سی سی ٹی وی انچارج شامل ہیں— کو دھر لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس دلخراش واقعے میں غفلت یا کوتاہی برتنے والے کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور معصوم بچی کی موت کے ذمہ دار تمام عناصر کو کڑی سے کڑی سزا دلوا کر متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔