واشنگٹن: وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایف بی آئی ہیڈکوارٹرز میں ڈائریکٹر کاش پٹیل سے اہم ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
Web Desk
14 July 2026
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واشنگٹن میں امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (FBI) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل سے ایک اہم ملاقات کی۔ یہ ملاقات اسلام آباد کی جانب سے امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اس ملاقات کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہیڈکوارٹرز میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی میزبانی کرنا ان کے لیے باعثِ مسرت تھا، اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ایف بی آئی پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی حمایت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا محور اندرون اور بیرون ملک دہشت گردی کی مالی معاونت (ٹیرر فنانسنگ) کی روک تھام اور سائبر تحقیقات کے لیے وسائل اور خصوصی تربیت کی فراہمی تھا۔ انہوں نے پاک-امریکہ شراکت داری کو “انتہائی اہم” قرار دیتے ہوئے مستقبل میں مزید کامیابیوں کی امید ظاہر کی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ واشنگٹن ان کی امریکہ میں گوناگوں مصروفیات کا حصہ ہے۔ وہ جولائی کے آغاز میں نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ پانچویں “یو این چیفس آف پولیس سمٹ” میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے امریکہ پہنچے تھے۔ اس سربراہی اجلاس کے حاشیے پر وزیر داخلہ نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے علاوہ چین، روس، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ہم منصبوں سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں انسدادِ دہشت گردی، سائبر کرائم، بارڈر مینجمنٹ اور پولیس ٹریننگ کے تبادلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیویارک کی مصروفیات مکمل کرنے کے بعد انہوں نے واشنگٹن کا رخ کیا جہاں سفارتی ذرائع کے مطابق ان کے دورے کو انتہائی باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ وہ واشنگٹن اور تہران کے مابین رابطے بحال رکھنے کی کوششوں میں ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ محسن نقوی کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کی ان علاقائی امن کوششوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ ایک ایسے حساس وقت پر ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کا فریم ورک حالیہ دنوں میں دوبارہ کشیدگی کا شکار ہوا ہے اور دونوں اطراف سے لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد نے خود کو اس تنازع میں ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے حکام کے مابین تکنیکی سطح کے مذاکرات پاکستان میں ہو چکے ہیں اور اب رواں ماہ کے آخر میں دوحہ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات متوقع ہیں۔
متعلقہ عنوانات
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ
14 July 2026
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت
14 July 2026
انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں
14 July 2026
امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر
14 July 2026
ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ
14 July 2026
امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے
14 July 2026
خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا
14 July 2026
امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران
14 July 2026