LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت

Web Desk

14 July 2026

پاکستان نے سعودی عرب کی سرزمین پر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے برادر اسلامی ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر مشروط اور مکمل حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔ یہ موقف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ (خاص طور پر یمن) کی ابتر صورتحال پر طلب کیے گئے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران سامنے آیا، جس میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خصوصی خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں عثمان جدون نے واضح کیا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے دفاع اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے اور سعودی شہروں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جہاں یمن کی اپنی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کا حامی ہے، وہیں خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ عسکری تصادم کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور انتہائی تحمل کا راستہ اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے بحران کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں اور وہاں پائیدار امن کا قیام صرف اور صرف ایک جامع اور وسیع البنیاد سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

یہ ہنگامی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب یمن میں برسرِپیکار سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے تصدیق کی کہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی سرحدی علاقے کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے، جنہیں سعودی فضائیہ کے دفاعی نظام (پٹریاٹ) نے فضا میں ہی کامیابی سے ٹریس کر کے تباہ کر دیا۔ دوسری جانب، یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر دارالحکومت صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ ریاض کو اس فوجی کارروائی کے انتہائی سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے، جس کے بعد خطے میں سیکورٹی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔