LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا ایرانی جزیرے خارگ سے تیل کی ترسیل مکمل رکنے کا دعویٰ بانی سے ملاقات نہ کرائی گئی تو سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے: سہیل آفریدی آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کیخلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے: پلوشہ خان کا دو ٹوک اعلان اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال جعلی ویڈیو کیس: عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست خارج گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال: حکومت اور ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان مذاکرات شروع مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے تعین کیلئے الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس طلب حرمین شریفین کا تحفظ ملک و قوم اور مسلح افواج کیلئے اہم فریضہ ہے: وزیراعظم پاکستان اور یورپی یونین کے پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دینا ہو گا: ایاز صادق اسحاق ڈار کا کانگو کے صدر اور گنی بساؤ کے سابق صدر سے مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبریں تشویشناک,اہم پریس کانفرنس مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل کے مرکزی دفتر پر فائرنگ، ملزمان فرار حج 2027 کا پورا عمل ڈیجیٹل، 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین درخواستیں دے سکیں گے

امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے

Web Desk

14 July 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری تصادم میں انتہائی خطرناک شدت آ گئی ہے اور امریکہ نے مسلسل تیسرے روز بھی ایران پر بھاری فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ہدایت پر امریکی فضائی اور بحری افواج نے مقامی وقت کے مطابق ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ حملوں کے فوراً بعد بندر عباس، بوشہر، قشم، کیش اور ابو موسیٰ کے علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس سے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سینٹ کام کے مطابق، ان حملوں کا بنیادی مقصد ایرانی افواج پر بھاری قیمت عائد کرنا اور ان کی اس جنگی صلاحیت کو بالکل کمزور بنانا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں شہریوں اور بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

بعد ازاں، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک اور تفصیلی بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی اہداف پر تازہ ترین فضائی حملوں کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ ان پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے طویل حملوں میں ایران کے ساحلی دفاعی نظاموں، زمین سے فضا اور زمین سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل نیٹ ورکس، ڈرون بیسز اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹ کام کے مطابق، ان فضائی حملوں میں خاص طور پر بوشہر، چاہ بہار، جسک، کونارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں قائم ایرانی عسکری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی عسکری حکام نے واضح کیا کہ خطے میں آزادانہ بحری تجارت کے تحفظ اور ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنے تک یہ کارروائیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ اس وقت کشیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ پر تعینات ہیں۔