LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ، بڑے پیمانے پر تباہی، درجنوں ہلاکتیں اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر اہم تبادلہ خیال نئی دہلی کے بعد رانچی میں بھی طلبا پر بھارتی پولیس کا بدترین لاٹھی چارج امریکا کا ایرانی جزیرے خارگ سے تیل کی ترسیل مکمل رکنے کا دعویٰ بانی سے ملاقات نہ کرائی گئی تو سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے: سہیل آفریدی آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کیخلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے: پلوشہ خان کا دو ٹوک اعلان اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال جعلی ویڈیو کیس: عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست خارج گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال: حکومت اور ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان مذاکرات شروع مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے تعین کیلئے الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس طلب حرمین شریفین کا تحفظ ملک و قوم اور مسلح افواج کیلئے اہم فریضہ ہے: وزیراعظم پاکستان اور یورپی یونین کے پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دینا ہو گا: ایاز صادق اسحاق ڈار کا کانگو کے صدر اور گنی بساؤ کے سابق صدر سے مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبریں تشویشناک,اہم پریس کانفرنس

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ

Web Desk

14 July 2026

مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مسلسل تیسرے روز جاری فضائی حملوں اور سخت بحری ناکہ بندی کے باوجود دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کے ساتھ اب بھی معاہدہ طے پانا ممکن ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، “جی ہاں، میرے خیال میں معاہدہ بالکل ممکن ہے۔ محض دو دن پہلے ہم ایک معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے، لیکن پھر ایرانیوں نے کہا کہ وہ اس موجودہ فریم ورک کے تحت معاہدہ نہیں کر سکتے اور انہیں اس پر مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ شدید عسکری دباؤ کے باوجود سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہوئے۔

دوسری جانب، ایک قدامت پسند ریڈیو چینل کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے انتہائی سخت رخ اپناتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیاں مزید دو سے تین ہفتوں تک طول پکڑ سکتی ہیں۔ اس دوران انہوں نے ایران کے وسطی زاگرس پہاڑی سلسلے کے اندر انتہائی گہرائی اور سرنگوں میں قائم محفوظ ترین جوہری مرکز “کوہ کولانگ گزلا” (پک ایکس ماؤنٹین) کو ممکنہ فضائی ہدف قرار دیتے ہوئے کھلی دھمکی دی کہ “ہم پک ایکس ماؤنٹین کو تباہ کر دیں گے، ایرانیوں سے کہہ دیں کہ وہ تیار رہیں کیونکہ وہ اس امریکی حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔”

اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی اور وہاں ایک نئے امریکی سیکیورٹی نظام کے نفاذ کا یکطرفہ اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سے امریکہ کو دنیا بھر میں “آبنائے ہرمز کا محافظ” کے نام سے پکارا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، اس نئی ناکہ بندی کا اطلاق صرف ایرانی جہازوں اور تہران سے تیل خریدنے والے خریداروں پر ہوگا، جبکہ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کا پرامن اور آزادانہ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم، انہوں نے حیران کن اعلان کیا کہ اس بحری گزرگاہ کے تحفظ اور امریکی سیکیورٹی اخراجات پورے کرنے کے لیے واشنگٹن وہاں سے گزرنے والے تمام تجارتی کارگو پر 20 فیصد کی شرح سے نئی فیس وصول کرے گا، اور اس نئے طریقہ کار پر فوری عملدرآمد شروع کیا جا رہا ہے