LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا ایران جنگ بندی کیلئے کوششیں جاری ہیں، امید نہیں چھوڑی: شہباز شریف سعودیہ کی حمایت کی تو امریکا بھی ہمارے نشانے پر ہوگا: حوثیوں کی دھمکی 8 ممالک کی آبنائے ہرمز میں سمندری راستوں کی رکاوٹ کی مذمت، ناقابل قبول قرار جعلی اندراج کا الزام: ٹرمپ انتظامیہ کا افورڈیبل کیئر ایکٹ (اوباما کیئر) کے 7 لاکھ 60 ہزار صارفین کو نکالنے کا اعلان برنی سینڈرز نے ٹرمپ کی ایران جنگ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیدیا معاشی بحران اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی: امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کو بڑی برتری کا امکان توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت، وفاقی حکومت کے نئے رولز 2026 نافذ جنرل اسمبلی اجلاس، ایرانی صدر کی سکیورٹی امریکی سیکرٹ سروس کے سپرد صدر پوتن، ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، کریملن لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ’ کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی پاکستان کےنئے مالی سال کے پہلے دو ماہ میں بیرونی قرضوں میں 23 فیصد اضافہ افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، تمام مار گرائے وزیراعظم کی بوسنیا کے صدارتی کونسل کے چیئرمین سے ملاقات، عالمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں، بل گیٹس سے ملاقاتیں، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی

Web Desk

14 July 2026

امریکی فوج نے تہران کے خلاف سخت عسکری اقدامات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں کی باقاعدہ بحری ناکہ بندی کی تصدیق کر دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ہینڈل پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پر دوبارہ عائد کی جانے والی امریکی بحری ناکہ بندی پر باقاعدہ عملدرآمد جمعرات کی رات 8 بجے سے شروع کر دیا جائے گا۔ سینٹ کام کے مطابق، امریکی بحریہ اور فضائی افواج ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والے تمام تجارتی و فوجی بحری جہازوں پر اس سخت ناکہ بندی کے نفاذ کو ہر صورت یقینی بنائیں گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکی فوج علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے صرف ان جہازوں کی محفوظ اور بلاروک ٹوک آمدورفت کی حمایت جاری رکھے گی جو اس امریکی ناکہ بندی کی کسی بھی طرح خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ سینٹ کام نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف اس امریکی ناکہ بندی کو دوبارہ نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ 13 اپریل سے 18 جون تک کامیابی سے جاری رہنے والی ابتدائی ناکہ بندی کے تجربے اور اس کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے خطے میں بحری سیکیورٹی اور تجارتی نقل و حمل پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔