LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی کوئٹہ اور نوشکی میں فائرنگ سے قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق کوہاٹ میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گر گئی، 9 افراد جاں بحق فیصل آباد میں گندے نالے میں گر کر 8 سالہ بچہ جاں بحق وزیراعظم سے سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات، مسلم دنیا کے مسائل پر تبادلہ خیال ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

سوشل میڈیا کے منفی اثرات: مختلف ممالک میں کم عمر بچوں کے استعمال پر پابندیاں

Web Desk

13 July 2026

کم عمر بچوں کی اخلاقی تربیت، ذہنی اور جسمانی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کے پیشِ نظر دنیا بھر میں آن لائن پلیٹ فارمز کے حوالے سے قوانین کو سخت کرنے کا رجحان تیز ہو گیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، آسٹریلیا اور انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جب کہ آسٹریلیا میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارمز کو 49.5 ملین ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح، ترکیہ نے 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگاتے ہوئے سخت تصدیقِ عمر کو لازمی قرار دیا ہے، جب کہ برازیل نے 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے اکاؤنٹس کو قانونی سرپرستوں سے منسلک کرنا لازمی کر دیا ہے۔ چین نے بھی ‘مائنر موڈ’ پروگرام کے تحت ڈیوائس اور ایپس کی سطح پر مخصوص پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ماہرین نے ان عالمی اقدامات کو بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاکستان میں بھی بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے عالمی طرز پر فوری قانون سازی کی جائے۔