LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کیلئے امریکی فوجی وفد بیروت پہنچ گیا شپنگ، بندرگاہوں اور گوادر کی ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک ہے‘، نئی دہلی میں افغان وزیرِ زراعت عطاء اللہ عمری کا متنازع بیان ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے تمام علاقے مکمل تباہ کرنے کے احکامات دیے جا چکے: ٹرمپ امریکی محکمہ خارجہ کی افغان طالبان رجیم پر تنقید، یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا ایران نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی، امریکا خلاف ورزی کر رہا ہے: عراقچی پولیس نے طالبہ سے گن پوائنٹ پر زیادتی کرنے والے ملزم کے والد کو حراست میں لے لیا امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکار کر دیا ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کے احتساب کا مطالبہ کر دیا امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال ورلڈ بینک کے صدر کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹ بال ’ٹرائیونڈا‘ کا تحفہ، سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ کی اجے بنگا سے ملاقات ظہران ممدانی امریکی یہودیوں میں نیتن یاہو سے زیادہ مقبول قرار امریکا کا ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے بند کرنے کے عوامی اعلان کا مطالبہ، ساتھ دھمکی بھی دیدی ایرانی وزارت صحت کی بھی فضائی حملوں میں 17 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق

امریکی محکمہ خارجہ کی افغان طالبان رجیم پر تنقید، یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ

Web Desk

11 July 2026

امریکا نے افغان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر سیاسی مفادات حاصل کرنے کا معاملہ ایک بار پھر اٹھا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ سٹکنی نے افغان طالبان رجیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اب بھی غیر ملکی شہریوں کو اغوا کرنے اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان اس “ہوسٹیج ٹیکنگ پالیسی” کے تحت قید تمام بے قصور امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کریں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کے اہم ترین قومی مفادات میں شامل ہے۔

الزبتھ سٹکنی نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر بھی طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہاں خواتین کے حقوق کی صورتحال انتہائی خوفناک ہے، جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ دوسری جانب عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور طالبان کی انہی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے انہیں سفارتی طور پر تنہا کر دیا ہے۔