LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کارگو طیارہ حادثہ، عملے کے 5 ارکان، بلیک باکس کو تلاش نہ کیا جا سکا امریکا نے گزشتہ چند گھنٹوں میں ایران میں کوئی کارروائی کی نہ فضائی حملے کئے: دفاعی حکام ایران پر حالیہ حملوں کے پیچھے یقینی طور پر اسرائیل ہے: ڈین گریزیئر ایرانی فضائی دفاعی نظام نے امریکی ایم کیو نائن ڈرون تباہ کر دیا، پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں غیر ملکی طاقتوں کا کوئی حق یا کردار نہیں: ایرانی پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت ایران کے مقررہ راستوں کے ذریعے ناممکن ہے: سینٹ کام ایرانی فوج کا ایک بار پھر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان فیفا ورلڈ کپ: فرانس مراکش کو 2 صفر سے شکست دیکر سیمی فائنل میں پہنچ گیا ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ٹیلیفونک رابطہ، خلیجی خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپرد خاک کر دیا گیا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں برطانیہ نے دیر کی، اینڈی برنہم امریکہ، ایران تنازع کا منصفانہ حل ناگزیر ہے: روسی وزیر خارجہ ثابت کر چکے اسرائیل یمن سے ایران تک کہیں بھی پہنچ سکتا ہے، اسرائیلی وزیر دفاع آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی امریکہ کے ایران پر مسلسل تیسرے روز بھی حملے جاری، مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

برآمدات میں کمی تشویشناک، پاکستان 8 ارب ڈالر کی ممکنہ آمدن سے محروم: گوہر اعجاز

Web Desk

9 July 2026

سابق وفاقی وزیرِ تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کی برآمدات بڑھنے کے بجائے کم ہو گئی ہیں، جس کے باعث ملک 8 ارب ڈالر کی ممکنہ برآمدی آمدن سے محروم رہا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک اہم پیغام میں انہوں نے بتایا کہ ملکی برآمدات میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے، جس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک کا تجارتی خسارہ اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

ڈاکٹر گوہر اعجاز نے موجودہ برآمدی صورتحال کو معیشت کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو خبردار کیا کہ ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر موجودہ صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے دنوں میں پاکستان کی معاشی مشکلات میں مزید سنگین اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اربابِ اختیار کو مشورہ دیا کہ اب بھی وقت ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔