LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے کیلئے ایران سے خصوصی رعایت کا مطالبہ شام میں کرد انتظامیہ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت نائیجیریا کے علاقے سوکوٹو میں کشتی حادثہ، 50 افراد ہلاک ایران کے ساتھ جنگ نئے مرحلے میں داخل ہوچکی: جے ڈی وینس جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں 6.7 شدت کا زلزلہ امریکا نے حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان

معروف شاعر، ادیب، افسانہ نگار، کالم نگار احمد ندیم قاسمی کو دنیا چھوڑے 20 برس بیت گئے

Web Desk

9 July 2026

اردو ادب کے لازوال اور عہد ساز شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور ممتاز کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی آج 20 ویں برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916ء کو پنجاب کے ضلع خوشاب کے ایک صوفی گھرانے میں پیدا ہوئے، خانقاہی پس منظر کے باعث ان کے مزاج میں قلندری، صوفیت اور عاجزی نمایاں تھی؛ ان کا اصل نام احمد شاہ تھا جبکہ انہوں نے “ندیم” کو اپنا تخلص چنا۔ انہوں نے اپنے طویل اور شاندار ادبی سفر کا آغاز بچپن ہی میں کر دیا تھا، جہاں انہوں نے پہلا شعر 1927ء میں کہا، جبکہ ان کی پہلی باقاعدہ نظم 1931ء میں روزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور میں شائع ہوئی، جو انہوں نے تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر لکھی تھی۔

احمد ندیم قاسمی نے اردو ادب کو لازوال اثاثہ دیا، ان کے 17 افسانوی اور 6 شعری مجموعے منظرِ عام پر آ کر مقبولِ عام ہوئے، جبکہ تنقید و تحقیق کی 3 اور ترتیب و ترجمہ کی 6 کتابیں بھی شائع ہوئیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے بھی گراں قدر ادب تخلیق کیا جو 3 کتابوں کی شکل میں محفوظ ہے۔ قاسمی صاحب کے شاہکار افسانوں جیسے ’’پہاڑوں کی برف‘‘، ’’نصیب‘‘، ’’بدنام‘‘، ’’کفن دفن‘‘ اور ’’ماں‘‘ کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور ان کے افسانوں کے ترجمے دنیا کی ایک درجن سے زائد زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی بے ملوث علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 1968ء میں تمغہ حسنِ کارکردگی اور 1980ء میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز “ستارہ امتیاز” سے نوازا۔ ادب کی دنیا کا یہ درخشندہ ستارہ 10 جولائی 2006ء کو لاہور میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا تھا، مگر ان کی تحریریں آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں