LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دھماکوں کی اطلاعات غلط ہیں، آواز فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کی تھی: ایرانی میڈیا ایران کیساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہیں: امریکی حکام کا دعویٰ ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن پر امریکا میں منی لانڈرنگ کے الزامات، تحقیقات شروع بھارت اور اسرائیل پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے، راناثنااللہ چین میں جوتے کی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک زرمبادلہ ذخائر میں بڑا اضافہ، 5 سال بعد 24 ارب ڈالر کی سطح کو چھولیا ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.7 فیصد تک گھٹا دیا کارگو طیارہ حادثہ، عملے کے 5 ارکان، بلیک باکس کو تلاش نہ کیا جا سکا امریکا نے گزشتہ چند گھنٹوں میں ایران میں کوئی کارروائی کی نہ فضائی حملے کئے: دفاعی حکام ایران پر حالیہ حملوں کے پیچھے یقینی طور پر اسرائیل ہے: ڈین گریزیئر ایرانی فضائی دفاعی نظام نے امریکی ایم کیو نائن ڈرون تباہ کر دیا، پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں غیر ملکی طاقتوں کا کوئی حق یا کردار نہیں: ایرانی پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت ایران کے مقررہ راستوں کے ذریعے ناممکن ہے: سینٹ کام ایرانی فوج کا ایک بار پھر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان فیفا ورلڈ کپ: فرانس مراکش کو 2 صفر سے شکست دیکر سیمی فائنل میں پہنچ گیا

معروف شاعر، ادیب، افسانہ نگار، کالم نگار احمد ندیم قاسمی کو دنیا چھوڑے 20 برس بیت گئے

Web Desk

9 July 2026

اردو ادب کے لازوال اور عہد ساز شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور ممتاز کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی آج 20 ویں برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916ء کو پنجاب کے ضلع خوشاب کے ایک صوفی گھرانے میں پیدا ہوئے، خانقاہی پس منظر کے باعث ان کے مزاج میں قلندری، صوفیت اور عاجزی نمایاں تھی؛ ان کا اصل نام احمد شاہ تھا جبکہ انہوں نے “ندیم” کو اپنا تخلص چنا۔ انہوں نے اپنے طویل اور شاندار ادبی سفر کا آغاز بچپن ہی میں کر دیا تھا، جہاں انہوں نے پہلا شعر 1927ء میں کہا، جبکہ ان کی پہلی باقاعدہ نظم 1931ء میں روزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور میں شائع ہوئی، جو انہوں نے تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر لکھی تھی۔

احمد ندیم قاسمی نے اردو ادب کو لازوال اثاثہ دیا، ان کے 17 افسانوی اور 6 شعری مجموعے منظرِ عام پر آ کر مقبولِ عام ہوئے، جبکہ تنقید و تحقیق کی 3 اور ترتیب و ترجمہ کی 6 کتابیں بھی شائع ہوئیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے بھی گراں قدر ادب تخلیق کیا جو 3 کتابوں کی شکل میں محفوظ ہے۔ قاسمی صاحب کے شاہکار افسانوں جیسے ’’پہاڑوں کی برف‘‘، ’’نصیب‘‘، ’’بدنام‘‘، ’’کفن دفن‘‘ اور ’’ماں‘‘ کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور ان کے افسانوں کے ترجمے دنیا کی ایک درجن سے زائد زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی بے ملوث علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 1968ء میں تمغہ حسنِ کارکردگی اور 1980ء میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز “ستارہ امتیاز” سے نوازا۔ ادب کی دنیا کا یہ درخشندہ ستارہ 10 جولائی 2006ء کو لاہور میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا تھا، مگر ان کی تحریریں آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں