LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار

تپِ دق کے خلاف نئی تجرباتی ویکسین تیار

Web Desk

9 July 2026

واشنگٹن: طبی ماہرین اور سائنس دانوں نے تپِ دق (ٹی بی) کے مہلک مرض کے خلاف ناک کے ذریعے دی جانے والی (نیسل) ایک نئی تجرباتی ویکسین تیار کر لی ہے۔ اس نیسل ویکسین کے جانوروں پر ہونے والے ابتدائی تجربات سے انتہائی حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیں، جن کی تفصیلات معروف طبی جریدے ‘جرنل آف کلینیکل انویسٹیگیشن’ میں شائع کی گئی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سال 2024ء میں تپِ دق دنیا بھر میں کسی ایک ہی جرثومے (بیکٹیریا) سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ بن گئی تھی، جس نے ہلاکتوں کے معاملے میں کورونا وائرس (Covid-19) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

اگرچہ مارکیٹ میں موجود اینٹی بائیوٹک ادویات ٹی بی کے خلاف مؤثر ثابت ہوتی ہیں، تاہم اس کا 6 ماہ پر مشتمل طویل اور پیچیدہ کورس مریضوں کے لیے مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اکثر مریض علاج ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، جس کے باعث بیماری دوبارہ ابھرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔جراثیم میں دوا کے خلاف مزاحمت (اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس) پیدا ہو جاتی ہے۔

اسی سنگین مسئلے کے پیشِ نظر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) تپِ دق کے خلاف نئی ویکسینز کی تیاری کی بھرپور حمایت کر رہی ہے تاکہ موجودہ علاج کو مزید مؤثر بنا کر اس کا دورانیہ کم کیا جا سکے۔

امریکہ کی مشہور ‘جانز ہاپکنز یونیورسٹی’ کے محققین نے یہ تجرباتی ڈی این اے نیسل ویکسین تیار کی ہے، جس میں $relMtb$ اور $Mip3\alpha$ نامی دو مخصوص جینز کو یکجا کیا گیا ہے۔تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسٹائلیانی کارانیکا کے مطابق، ٹی بی کے جراثیم میں موجود $relMtb$ جین ایک ایسا پروٹین بناتا ہے جو بیکٹیریا کو اینٹی بائیوٹکس، آکسیجن کی کمی اور غذائی قلت جیسے انتہائی مشکل حالات میں بھی زندہ رکھتا ہے۔ نئی ویکسین کا بنیادی مقصد اسی حفاظتی نظام کو نشانہ بنا کر جراثیم کے خلاف انسانی جسم کے مدافعتی نظام (امیون سسٹم) کو متحرک اور مضبوط بنانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ وقتوں میں انسانوں پر ہونے والے کلینیکل ٹرائلز (آزمائشوں) میں بھی یہی مثبت نتائج سامنے آئے، تو یہ ویکسین مستقبل میں تپِ دق کے خاتمے اور اس کی روک تھام میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو گی۔