LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

میئر کراچی کی ننھے ابراہیم کے واقعے پرمعافی ، ذمہ داری قبول کرلی،  غفلت پر بڑی کارروائیاں

Web Desk

3 December 2025

کراچی میں ننھے ابراہیم کے دل خراش سانحے پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے واقعے کو ناقابلِ برداشت، افسوسناک اور انتہائی شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک باپ کی حیثیت سے اس درد کو شدت سے محسوس کرتے ہیں اور شہر کی پوری انتظامیہ سمیت خود کو بھی اس سانحے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ میئر کراچی نے واضح کیا کہ وہ الزام تراشی نہیں کریں گے بلکہ مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں، بطور میئر میں کامیاب نہیں ہو سکا، اس لیے ندامت کے ساتھ معافی چاہتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ مرحوم ابراہیم کے گھر گئے جہاں والد، دادا اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔ میئر نے کہا کہ انہوں نے کسی پر الزام نہیں رکھا بلکہ اپنی طرف سے معافی مانگی، جبکہ بچے کے دادا نے شفقت کے ساتھ کہا کہ “جو عمر اللہ نے لکھی تھی وہ پوری ہوگئی”، اور درخواست کی کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسا سانحہ دوبارہ نہ ہو۔

میئر کراچی نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے واقعے کے بعد فوری اجلاس بلا کر تحقیقات اور ابتدائی اقدامات کا حکم دیا۔ اس دوران کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے متعلقہ انجینئر، کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر، ضلعی مختیار کار اور اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کیا گیا، جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور متعلقہ ڈی ایس پی کی معطلی کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض شروعات ہے، انکوائری مکمل ہونے پر مزید سخت کارروائی ہوگی تاکہ مثالی مثال قائم کی جاسکے۔

میئر نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران عوامی ہجوم نے کام میں شدید رکاوٹ ڈالی، متعدد لوگ مین ہول کے اردگرد کھڑے تھے جس سے مشینری حرکت نہ کر سکی۔ ڈمپر مشین بھی ہجوم کے باعث مؤثر طور پر استعمال نہ ہوسکی۔ انہوں نے ریسکیو آپریشنز کے لیے واضح ایس او پی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شہر میں 2 لاکھ 45 ہزار مین ہول کورز موجود ہیں جن میں سے ایک سال میں 88 ہزار نئے کور لگائے گئے، لیکن لوہے اور فائبر کے کور چوری ہونے کا مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھانے دار جانتا ہے چوری کا سامان کہاں بکتا ہے، وزیر داخلہ نے یقین دلایا ہے کہ کباڑی مارکیٹوں کے خلاف ایکشن ہوگا۔

میئر نے کہا کہ 1334 ہیلپ لائن ایک سال سے فعال ہے لیکن اس مقام کے متعلق کوئی شکایت درج نہیں ہوئی تھی۔ یونین کونسل چیئرمینوں کا بجٹ 5 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ ماہانہ کردیا گیا ہے، جبکہ کے ایم سی اور ٹاؤنز کے پاس اربوں روپے کے وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ جہاں بھی مین ہول کا ڈھکن غائب ہو فوری اطلاع دیں، تاکہ کسی اور بچے کی جان ضائع نہ ہو۔