LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا

آج سے 10 جولائی تک بارشوں کا امکان، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ

Web Desk

6 July 2026

سات سے 10 جولائی کے دوران دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے بالائی ملحقہ علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے نے سات جولائی کو اسلام آباد، پوٹھوہار، کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، شمالی پنجاب اور شمالی بلوچستان میں بارشوں کی شدت میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ متوقع بارشوں کے باعث تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی آمد میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ سات سے 10 جولائی کے دوران دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج میں بھی پانی کے بہاؤ میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں، تاہم پہاڑی ندی نالوں اور چھوٹے برساتی نالوں میں اچانک پانی کے بہاؤ میں مقامی سطح پر اضافہ ہو سکتا ہے۔

حساس بالائی علاقوں میں سیلاب جبکہ شدید بارش کے دوران شہری علاقوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور سیلابی صورتحال کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ مزید برآں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بھی ہے۔