وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز
Web Desk
5 July 2026
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران اورلینڈو میں ‘ایپنا’ (APPNA) کے 49ویں سالانہ کنونشن میں شرکت کی اور پاکستانی نژاد امریکی تاجر برادری سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی پائیدار ترقی اور معاشی تبدیلی کے سفر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
ایپنا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ‘اڑان پاکستان’ (URAAN Pakistan) کے تحت انسانی وسائل کی ترقی کو قومی منصوبہ بندی کا محور بنانے کے حکومتی وژن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل تعلیم، صحت، آبادی کے انتظام، جدت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے جڑا ہے، جس کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کا تعاون ناگزیر ہے۔
احسن اقبال نے تارکینِ وطن ڈاکٹروں کو اپنی خدمات پیش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے ایک جدید ‘ٹیلی میڈیسن بیک اپ ماڈل’ کی تجویز پیش کی۔ اس ماڈل کے تحت پاکستان کے تمام 60 اضلاع میں سے ہر ضلع کے لیے امریکہ میں مقیم 10 طبی ماہرین کا پینل قائم کیا جائے گا۔ یہ پینل دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں خدمات انجام دینے والے جونیئر ڈاکٹروں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے کلینیکل سپورٹ اور مشاورت فراہم کرے گا، جس سے ملک بھر میں معیاری صحت کی سہولیات عام ہوں گی۔ انہوں نے اوورسیز ڈاکٹروں سے ہیلتھ کیئر میں مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارمز متعارف کرانے میں بھی مدد مانگی۔
انہوں نے ملک کو درپیش بڑے چیلنجز جیسے ہیپاٹائٹس سی، ذیابیطس، پولیو، آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور بچوں میں غذائی قلت (اسٹنٹنگ) کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ قائم کرنے کی منظوری دی ہے جس کے سربراہ وزیراعظم اور تمام وزرائے اعلیٰ اس کے ارکان ہوں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام جاری ہیں جبکہ ملک گیر سطح پر ذیابیطس سے بچاؤ کی مہم جلد شروع کی جا رہی ہے۔
ایک سوال و جواب کے سیشن میں وفاقی وزیر نے ذمہ دارانہ جمہوری گفتگو کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی اظہار رائے سب کا آئینی حق ہے، لیکن سیاسی اختلافات کی وجہ سے ریاستی اداروں یا پاکستان کے عالمی تشخص کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاست کو ریاست سے الگ ہونا چاہیے اور کوئی بھی جمہوری ملک اپنے خود مختار اداروں کو سیاسی ایجنڈوں کی بھینٹ چڑھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ احسن اقبال نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں پالیسیوں کے تسلسل میں بار بار خلل آنے کی وجہ سے پاکستان اپنی ترقی کے اہداف مکمل حاصل نہیں کر سکا، حالانکہ مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ ادوار میں توانائی بحران کا خاتمہ، امن و امان کی بحالی اور سی پیک (CPEC) کا کامیاب آغاز جیسے بڑے کارنامے انجام دیے گئے تھے۔
متعلقہ عنوانات
حکومتی یقین دہانیوں پر عمل نہ ہونے پر ایم کیو ایم کا وفاقی کابینہ کے اگلے اجلاس میں احتجاج کا فیصلہ
5 July 2026
اسپتال انتظامیہ کی غفلت، زندہ بچی مردہ قرار، ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری
5 July 2026
فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر
5 July 2026
یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق
5 July 2026
شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر
5 July 2026
پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم
5 July 2026
امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش
5 July 2026
وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان
5 July 2026