LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم وزیراعظم کی عازمینِ حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی، مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمر انٹرن شپ 2026 کے شرکا سے خصوصی نشست جڑواں شہروں میں شدید بارش، رین ایمرجنسی نافذ، نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند مون سون شجرکاری کا آغاز، درختوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: صدر مملکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پارٹی کا بل بورڈ: نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی تصویر ایران اور حزب اللہ رہنماؤں کے ساتھ لگا دی

اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، مذاکرات جنگ کا متبادل ہیں: جبران باسیل

Web Desk

3 July 2026

لبنان کے سابق وزیر خارجہ اور معروف سیاستدان جبران باسیل نے کہا ہے کہ انہیں اصولی طور پر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ مذاکرات ہمیشہ جنگ کا متبادل ہوتے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ سے گفتگو کرتے ہوئے جبران باسیل نے واضح کیا کہ لبنان کو کسی بیرونی فریق پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے خود مذاکرات کرنے چاہئیں اور کسی دوسرے ملک کو لبنان کی نمائندگی کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کی حمایت صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس کے ذریعے لبنانی عوام کے حقوق بحال ہوں، خطے میں پائیدار امن قائم ہو، اور کوئی بھی حتمی معاہدہ لبنان کے لیے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ثابت نہ ہو۔

سابق وزیر خارجہ نے موجودہ فریم ورک معاہدے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے نتیجے میں حزب اللہ کی جانب سے فراہم کیا جانے والا دفاعی تحفظ تو ختم ہو گیا ہے لیکن اس کا کوئی متبادل پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق، یہ معاہدہ شکل اور مواد دونوں اعتبار سے ناقص ہے کیونکہ اس میں لبنان پر تو متعدد ذمہ داریاں اور پابندیاں عائد کی گئی ہیں مگر اسرائیل پر کوئی واضح ذمہ داری نہیں ڈالی گئی۔

جبران باسیل نے خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر لبنانی فوج اور حزب اللہ کے درمیان تصادم اور خانہ جنگی کی فضا پیدا کرنا چاہتا ہے، جس سے ملک کو بچانے کی ضرورت ہے۔