اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، مذاکرات جنگ کا متبادل ہیں: جبران باسیل
Web Desk
3 July 2026
لبنان کے سابق وزیر خارجہ اور معروف سیاستدان جبران باسیل نے کہا ہے کہ انہیں اصولی طور پر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ مذاکرات ہمیشہ جنگ کا متبادل ہوتے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ سے گفتگو کرتے ہوئے جبران باسیل نے واضح کیا کہ لبنان کو کسی بیرونی فریق پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے خود مذاکرات کرنے چاہئیں اور کسی دوسرے ملک کو لبنان کی نمائندگی کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کی حمایت صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس کے ذریعے لبنانی عوام کے حقوق بحال ہوں، خطے میں پائیدار امن قائم ہو، اور کوئی بھی حتمی معاہدہ لبنان کے لیے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ثابت نہ ہو۔
سابق وزیر خارجہ نے موجودہ فریم ورک معاہدے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے نتیجے میں حزب اللہ کی جانب سے فراہم کیا جانے والا دفاعی تحفظ تو ختم ہو گیا ہے لیکن اس کا کوئی متبادل پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق، یہ معاہدہ شکل اور مواد دونوں اعتبار سے ناقص ہے کیونکہ اس میں لبنان پر تو متعدد ذمہ داریاں اور پابندیاں عائد کی گئی ہیں مگر اسرائیل پر کوئی واضح ذمہ داری نہیں ڈالی گئی۔
جبران باسیل نے خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر لبنانی فوج اور حزب اللہ کے درمیان تصادم اور خانہ جنگی کی فضا پیدا کرنا چاہتا ہے، جس سے ملک کو بچانے کی ضرورت ہے۔
متعلقہ عنوانات
حارث سید لاس اینجلس کاؤنٹی سپیریئر کورٹ کے جج مقرر، گورنر کیلیفورنیا کا اہم اعلان
3 July 2026
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم کا تاریخی فیصلہ؛ مختلف کاؤنٹیز کے لیے 14 نئے سپیریئر کورٹ ججز کا تقرر
3 July 2026
شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے آخری دیدار کا آغاز ہو گیا، تہران میں رقت آمیز مناظر
3 July 2026
آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے دوران حملہ ہوا تو جواب نہایت سخت ہوگا: ایران
3 July 2026
امریکی رکن کانگریس کا اسرائیل پر فوری اسلحہ پابندی عائد کرنے کا مطالبہ
3 July 2026
ڈی جی لبنانی داخلی سکیورٹی فورسز کی یو این عبوری امن فوج کے سربراہ سے ملاقات
3 July 2026
ایران نے امریکی قیادت میں علاقائی سکیورٹی مذاکرات مسترد کر دیے
3 July 2026
ایران کے سپریم لیڈر اور رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت اور تعزیت کے لیے پاکستان کی اہم سیاسی، مذہبی، سماجی اور میڈیا سے وابستہ سرکردہ شخصیات تہران پہنچ گئیں
3 July 2026