LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف کل سے ایران اور ترکیہ کا دورہ کریں گے جموں و کشمیر اور گلگت کی ترقی، عوامی فلاح کیلئے تمام اقدامات کرینگے: وزیراعظم جوہانسبرگ کی جیل میں قیدیوں کے فن پاروں نے سب کو حیران کردیا پاکستان کی مینگو ڈپلومیسی ، 76 ممالک کو آم تحفے میں دینے کا فیصلہ وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ؛ 1800 سی سی سے کم استعمال شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کر کے 30 فیصد کر دی یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روسی میزائل اور ڈرون حملہ، 9 افراد ہلاک شہری کو ہراساں کرنے سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر کو نوٹس جاری پی سی بی اور سعودی کرکٹ فیڈریشن میں تاریخی معاہدہ، جدہ میں عالمی معیار کا کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا : پاکستانی اور قطری ثالثوں کی امریکی و ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقاتیں، مثبت پیش رفت کا دعویٰ وفاق اور صوبوں کے درمیان این ایف سی معاہدہ ازسرنو دیکھا جائے: عالمی بینک نائجر میں نیا قانون، ہم جنس پرستی پر کئی بڑے سرکاری افسر گرفتار افغان طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور یورپی دورےکیخلاف برازیل میں بڑا مظاہرہ ایران نے بحرین میں امریکی قیادت میں سکیورٹی اجلاس مسترد کر دیا سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی اسرائیلی دھمکی ریاستی دہشت گردی ہے: ایران شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ایران اور عراق میں ہوں گی

شہری کو ہراساں کرنے سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر کو نوٹس جاری

Web Desk

2 July 2026

سندھ ہائیکورٹ نے جعلسازوں کی مبینہ سرپرستی کرنے اور مقدمے کے درخواست گزار کو پولیس کی جانب سے دھمکیاں دینے اور ہراساں کیے جانے کے سنگین الزامات پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

عدالتِ عالیہ نے یہ نوٹسز شہری ساجد معروف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیے۔ جن دیگر شخصیات اور افسران کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں ڈی آئی جی کرائم انویسٹی گیشن، ایس ایس پی کورنگی قیص خان، انویسٹی گیشن آفیسر (IO) عباد حیدر، کامران آفتاب اور عباس بٹ شامل ہیں۔

عدالت میں دائر درخواست کے مطابق، درخواست گزار ساجد معروف نے کامران آفتاب نامی شخص کو 2 کروڑ روپے مالیت کا قیمتی کیمیکل مواد فراہم کیا تھا۔ اس کے بدلے کامران آفتاب نے عباس بٹ کے ذریعے 90 لاکھ روپے کا ایک پے آرڈر دیا، جو بینک میں جمع کروانے پر مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوا۔ اس جعلسازی کے خلاف زمان ٹاؤن تھانے میں باقاعدہ مقدمہ بھی درج ہے۔

درخواست گزار کا الزام ہے کہ متعلقہ پولیس افسران قانون کا ساتھ دینے اور منصفانہ کارروائی کرنے کے بجائے الٹا ملزمان کی سرپرستی کر رہے ہیں اور کیس کے اہم شواہد مٹانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

درخواست گزار کی وکیل بشریٰ عباس ایڈووکیٹ نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق تفتیش کسی غیر جانبدار پولیس افسر کو منتقل ہونی چاہیے تھی، لیکن ایسا کرنے کے بجائے پولیس کی جانب سے ان کے موکل کو سنگین دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو مطلع کیا کہ درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کو پولیس اور ملزمان کی ملی بھگت سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے جس سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔

درخواست میں سندھ ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار اور اس کے خاندان کو فوری طور پر فول پروف سکیورٹی اور تحفظ فراہم کیا جائے اور جعلی پے آرڈر کے اس پورے معاملے کی کسی ایماندار افسر سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔