LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی سعودی عرب میں بدھ تک شدید گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی عراق میں بس اور ٹرک میں تصادم، 7 سیاح جاں بحق، 23 زخمی آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے: ایران

شہری کو ہراساں کرنے سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر کو نوٹس جاری

Web Desk

2 July 2026

سندھ ہائیکورٹ نے جعلسازوں کی مبینہ سرپرستی کرنے اور مقدمے کے درخواست گزار کو پولیس کی جانب سے دھمکیاں دینے اور ہراساں کیے جانے کے سنگین الزامات پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

عدالتِ عالیہ نے یہ نوٹسز شہری ساجد معروف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیے۔ جن دیگر شخصیات اور افسران کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں ڈی آئی جی کرائم انویسٹی گیشن، ایس ایس پی کورنگی قیص خان، انویسٹی گیشن آفیسر (IO) عباد حیدر، کامران آفتاب اور عباس بٹ شامل ہیں۔

عدالت میں دائر درخواست کے مطابق، درخواست گزار ساجد معروف نے کامران آفتاب نامی شخص کو 2 کروڑ روپے مالیت کا قیمتی کیمیکل مواد فراہم کیا تھا۔ اس کے بدلے کامران آفتاب نے عباس بٹ کے ذریعے 90 لاکھ روپے کا ایک پے آرڈر دیا، جو بینک میں جمع کروانے پر مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوا۔ اس جعلسازی کے خلاف زمان ٹاؤن تھانے میں باقاعدہ مقدمہ بھی درج ہے۔

درخواست گزار کا الزام ہے کہ متعلقہ پولیس افسران قانون کا ساتھ دینے اور منصفانہ کارروائی کرنے کے بجائے الٹا ملزمان کی سرپرستی کر رہے ہیں اور کیس کے اہم شواہد مٹانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

درخواست گزار کی وکیل بشریٰ عباس ایڈووکیٹ نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق تفتیش کسی غیر جانبدار پولیس افسر کو منتقل ہونی چاہیے تھی، لیکن ایسا کرنے کے بجائے پولیس کی جانب سے ان کے موکل کو سنگین دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو مطلع کیا کہ درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کو پولیس اور ملزمان کی ملی بھگت سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے جس سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔

درخواست میں سندھ ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار اور اس کے خاندان کو فوری طور پر فول پروف سکیورٹی اور تحفظ فراہم کیا جائے اور جعلی پے آرڈر کے اس پورے معاملے کی کسی ایماندار افسر سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔