پیدائشی شہریت پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹرمپ کی تنقید، کانگریس سے قانون سازی کا مطالبہ
Web Desk
30 June 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی جانب سے ملک میں پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) برقرار رکھنے کے فیصلے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے شدید مایوس کن قرار دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے موقف اختیار کیا کہ پیدائشی شہریت کے خاتمے کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ محض عام قانون سازی کے ذریعے بھی اس موجودہ نظام کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ ملک کے مفاد میں آج ہی سے پیدائشی شہریت کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر کام شروع کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پیدائشی شہریت کا موجودہ نظام امریکا کے لیے انتہائی مہنگا اور غیر منصفانہ ہے، اس لیے اس میں تبدیلی لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ امریکی صدر نے مزید واضح کیا کہ اگر کانگریس اس مقصد کے لیے قانون سازی کا آغاز کرتی ہے، تو انہیں صدر کی حیثیت سے ان کی مکمل آئینی اور سیاسی حمایت حاصل ہوگی
متعلقہ عنوانات
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے وزیراعظم رواں ہفتے ایران کا دورہ کریں گے
30 June 2026
چین: انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 6 روزہ مسلسل ڈیوٹی کامیابی سے مکمل کر لی
30 June 2026
ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے، نیتن یاہو
30 June 2026
انڈونیشیا وزیر تعلیم اور گوجیک ایپ کے بانی کو کرپشن پر اربوں روپے جرمانہ اور قید
30 June 2026
گیم سیریز جی ٹی اے 6 کو ریلیز سے قبل ہی سخت پابندیوں کا سامنا
30 June 2026
مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے: ایران
30 June 2026
بلوچستان کی سرحر پر افغان طالبان رجیم کے4 ڈرونز کو سیکیورٹی فورسز نے مار گرایا
30 June 2026
ئی اے ای اے کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی، امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرے: اسماعیل بقائی
30 June 2026