LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا خطے میں کشیدگی: متحدہ عرب امارات نے ایران سے تمام تجارتی، مالی معاملات معطل کر دیئے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ، 6 فلسطینی شہید، 14 زخمی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کی صحت کیلئے دعا گو ہوں، طبی سہولیات ملنا سب کا حق ہے: شرجیل میمن وزیر داخلہ کی شہید میجر احسان کی رہائشگاہ آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت آبنائے ہرمز پر امریکا ایران ثالثی کی نئی کوششیں کی جائیں گی: قطر محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ انمول پنکی کیخلاف قتل بالسبب کے مقدمہ میں فرد جرم عائد، ملزمہ کا صحت جرم سے انکار

پیدائشی شہریت پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹرمپ کی تنقید، کانگریس سے قانون سازی کا مطالبہ

Web Desk

30 June 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی جانب سے ملک میں پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) برقرار رکھنے کے فیصلے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے شدید مایوس کن قرار دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے موقف اختیار کیا کہ پیدائشی شہریت کے خاتمے کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ محض عام قانون سازی کے ذریعے بھی اس موجودہ نظام کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ ملک کے مفاد میں آج ہی سے پیدائشی شہریت کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر کام شروع کرے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پیدائشی شہریت کا موجودہ نظام امریکا کے لیے انتہائی مہنگا اور غیر منصفانہ ہے، اس لیے اس میں تبدیلی لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ امریکی صدر نے مزید واضح کیا کہ اگر کانگریس اس مقصد کے لیے قانون سازی کا آغاز کرتی ہے، تو انہیں صدر کی حیثیت سے ان کی مکمل آئینی اور سیاسی حمایت حاصل ہوگی