پیدائشی شہریت پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹرمپ کی تنقید، کانگریس سے قانون سازی کا مطالبہ
Web Desk
30 June 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی جانب سے ملک میں پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) برقرار رکھنے کے فیصلے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے شدید مایوس کن قرار دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے موقف اختیار کیا کہ پیدائشی شہریت کے خاتمے کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ محض عام قانون سازی کے ذریعے بھی اس موجودہ نظام کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ ملک کے مفاد میں آج ہی سے پیدائشی شہریت کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر کام شروع کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پیدائشی شہریت کا موجودہ نظام امریکا کے لیے انتہائی مہنگا اور غیر منصفانہ ہے، اس لیے اس میں تبدیلی لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ امریکی صدر نے مزید واضح کیا کہ اگر کانگریس اس مقصد کے لیے قانون سازی کا آغاز کرتی ہے، تو انہیں صدر کی حیثیت سے ان کی مکمل آئینی اور سیاسی حمایت حاصل ہوگی
متعلقہ عنوانات
روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی
19 August 2026
امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد
19 August 2026
گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ
19 August 2026
اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ
19 August 2026
سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال
19 August 2026
سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم
19 August 2026
ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا
19 August 2026
خطے میں کشیدگی: متحدہ عرب امارات نے ایران سے تمام تجارتی، مالی معاملات معطل کر دیئے
19 August 2026