انڈونیشیا وزیر تعلیم اور گوجیک ایپ کے بانی کو کرپشن پر اربوں روپے جرمانہ اور قید
Web Desk
30 June 2026
انڈونیشیا کی ایک عدالت نے ملک کی معروف ترین ڈیجیٹل کمپنی ‘گوجیک’ (Gojek) کے شریک بانی اور سابق وزیر تعلیم ندیم مکرم کو سرکاری اسکولوں کے لیے کروم بک لیپ ٹاپ کی خریداری میں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، 41 سالہ ندیم مکرم نے عدالت میں اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی سختی سے تردید کی تھی، تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سابق وزیر تعلیم نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا اور واضح مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے باوجود سرکاری خریداری کے عمل کو متاثر کیا۔ عدالت نے انہیں 10 سال قید کے ساتھ ساتھ 809 ارب انڈونیشین روپیہ (تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر) بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں مزید 5 سال قید کاٹنا ہوگی۔ اس کے علاوہ ان پر ایک ارب انڈونیشین روپیہ الگ سے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جس کی عدم ادائیگی پر مزید 190 دن قید بھگتنی ہوگی۔
یہ مقدمہ 2021 اور 2022 کے دوران انڈونیشیا کی وزارت تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں کے لیے کروم بک لیپ ٹاپ خریدنے سے متعلق تھا۔ وزارت تعلیم نے خود 2018 میں ایک رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ کروم بک کمپیوٹرز کے لیے مستقل انٹرنیٹ درکار ہوتا ہے، جبکہ انڈونیشیا کے متعدد دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے، اس لیے یہ خریداری مناسب نہیں۔ تاہم، پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا کہ ندیم مکرم نے 2020 میں گوگل حکام سے ملاقات کے بعد خریداری کے معیار (Criteria) کو اس انداز سے تبدیل کیا کہ صرف گوگل کے کروم او ایس (Chrome OS) پر مبنی لیپ ٹاپ ہی اہل قرار پائے، جس سے گوگل کو غیر قانونی فائدہ پہنچا اور قومی خزانے کو تقریباً 12 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کا بھاری نقصان ہوا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ ندیم مکرم نے ذاتی طور پر سرکاری رقم خرد برد کی، لیکن کیونکہ وہ وزارت سنبھالنے کے بعد بھی گوجیک میں اقلیتی حصص کے مالک تھے اور گوگل اس کمپنی کے بڑے سرمایہ کاروں میں شامل تھا، اس لیے اس فیصلے میں واضح مفادات کا ٹکراؤ موجود تھا۔ دوسری جانب ندیم مکرم کا مؤقف تھا کہ گوگل کی گوجیک میں سرمایہ کاری کا اس خریداری سے کوئی تعلق نہیں تھا اور کروم بک کے انتخاب سے حکومت کے اخراجات میں کمی آئی تھی۔
عدالت سے باہر آتے ہوئے ندیم مکرم جذباتی دکھائی دیے اور انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالت کے باہر موجود گوجیک کے متعدد ڈرائیورز اور ان کے حامیوں نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ اس مقدمے نے انڈونیشیا میں ایک نیا سیاسی و قانونی تنازع کھڑا کر دیا ہے، جہاں انسانی حقوق کے کارکنان اسے سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں، وہیں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نوجوان پیشہ ور افراد میں یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ حکومت میں شامل ہو کر اصلاحات لانے والوں کو قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ندیم مکرم نے 2019 میں گوجیک چھوڑ کر سابق صدر جوکو ویدودو کی حکومت میں وزیر تعلیم کا منصب سنبھالا تھا، جہاں وہ 2024 تک خدمات انجام دیتے رہے۔ گوجیک اس وقت جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے وزیراعظم رواں ہفتے ایران کا دورہ کریں گے
30 June 2026
چین: انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 6 روزہ مسلسل ڈیوٹی کامیابی سے مکمل کر لی
30 June 2026
ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے، نیتن یاہو
30 June 2026
مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے: ایران
30 June 2026
بلوچستان کی سرحر پر افغان طالبان رجیم کے4 ڈرونز کو سیکیورٹی فورسز نے مار گرایا
30 June 2026
ئی اے ای اے کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی، امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرے: اسماعیل بقائی
30 June 2026
برطانیہ کا مزید 45 ہزار غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کرنے کا اعلان
30 June 2026
فیفا ورلڈ کپ: ناروے نے آئیوری کوسٹ کو شکست دے کر پری کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا
30 June 2026