LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مفاہمت دوطرفہ معاملہ ہے، امریکا وعدے پورے کرے گا تو ہم بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان امریکہ میں پالتو کتے کے حملے میں 7 دن کا بچہ جاں بحق، غفلت برتنے پر والدین اور دادا دادی سمیت خاندان کے 6 افراد گرفتار امریکہ بیٹی کے نام پر حکومت سے فراڈ کرنے والی ماں گرفتار آئندہ چند روز میں امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں: اسماعیل بقائی سینٹ کام سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا اسرائیل اور لبنان کا دورہ، صدر جوزف عون سے ملاقات عراق کی ایران کیساتھ منسلک مسلح گروہوں کو ستمبر کے آخر تک ہتھیار ڈالنے کی مہلت جامشورو میں 8 ماہ کی حاملہ خاتون کاروکاری کے نام پر قتل مشرق وسطیٰ کی صورتحال، وزیر داخلہ محسن نقوی اہم دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے، ترک صدر پاکستان کا سلامتی کونسل سے فلسطین میں اسرائیلی آبادکاریاں فوری روکنے کا مطالبہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے استحکام کیلئے نیا فنڈ قائم کر دیا حکومت کا 2027ء تک سود سے پاک مالی نظام کی تیاری کا فیصلہ, مالیاتی استحکام برقرار رکھتے ہوئے تبدیلی کا عمل مکمل کیا جائے گا، وزارت خزانہ ٹرمپ کا آج قطر میں مذاکرات کا اعلان، ایران نے تردید کر دی قطر میں منجمد 12 ارب ڈالرز میں نصف رقم جلد ہمارے حوالے کردی جائے گی؛ ایرانی صدر مالی سال کے آخری ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 48 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئے

پاکستان کی وہ حیرت انگیز عمارت جس کا باقاعدہ علاج کیا گیا

Web Desk

29 June 2026

لاہور کے تاریخی اور عالمی شہرت یافتہ شاہی قلعے کی تقریباً 400 سال پرانی “پکچر وال” کو 8 سال کی طویل اور انتھک محنت کے بعد سائنسی بنیادوں پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ عام طور پر علاج انسانوں کا کیا جاتا ہے، مگر اس منفرد تحفظاتی منصوبے میں ماہرین نے اس تاریخی دیوار کو ایک ‘مریض’ کی طرح سمجھ کر اس کی خرابیوں کی تشخیص کی اور پھر اس کا باقاعدہ ‘علاج’ کیا۔

منصوبے کی ماہرِ تعمیرات اور کنزرویشن آرکیٹیکٹ زینا نصیر نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں عام طور پر تاریخی عمارتوں کو تحفظ دینے کے نام پر گرا کر نئے سرے سے بنا دیا جاتا ہے، جس سے ان کی اصل شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ تاہم، پکچر وال پراجیکٹ میں اس روایتی طریقے سے ہٹ کر اصل مواد اور تاریخی آثار کو محفوظ رکھنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ تحفظاتی ٹیم نے دیوار پر موجود ٹائل ورک، فریسکو پینٹنگز، اینٹوں، مٹی، پانی اور تعمیراتی مواد کے نمونے حاصل کر کے ان کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کیا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عمارت کے مختلف حصے کیوں خراب ہو رہے ہیں اور ان کا مستقل حل کیا ہے۔

شاہی قلعے کی یہ تاریخی دیوار تقریباً 1600 فٹ لمبی ہے، جس پر مغلیہ دور کا شاندار فنِ تعمیر اور نقش و نگار موجود ہیں۔ ماہرین نے دیوار کو نیا روپ دینے کے بجائے اس کی اصل شکل اور تاریخی شناخت کو برقرار رکھا۔ اس منصوبے کے تحت صرف انہی حصوں کی مرمت کی گئی جن کے مستند تاریخی شواہد موجود تھے، جبکہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کوئی نئی تعمیر نہیں کی گئی۔ دیوار کی سطحی مرمت کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کی نکاسی کا جدید نظام بھی بنایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں دیوار کو نمی اور پانی کے نقصانات سے بچایا جا سکے۔  ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ تحفظ (کنزرویشن) کا اصل مقصد تاریخی عمارت کو نیا چمکدار بنانا نہیں، بلکہ اس کی اصل حالت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی عمر بڑھانا ہوتا ہے، اور یہ پراجیکٹ اسی بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔