LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر

امریکہ بیٹی کے نام پر حکومت سے فراڈ کرنے والی ماں گرفتار

Web Desk

29 June 2026

امریکی ریاست ٹینیسی میں ایک سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں نو سال سے لاپتا لڑکی کے نام پر سرکاری فوڈ اسٹامپ فوائد حاصل کرنے کے الزام میں پولیس نے اس کی حقیقی ماں کو دھر لیا۔

نیشوِل پولیس کے مطابق 51 سالہ خاتون شینن اینڈرسن پر الزام ہے کہ وہ اپنی لاپتا بیٹی جوڈی “بروک” اینڈرسن کے نام پر حکومت سے امداد وصول کرتی رہی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو گرفتار کر کے ان پر فوڈ اسٹامپ فراڈ کے متعدد سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ بروک اینڈرسن کی عمر 18 برس تھی جب 9 اگست 2017 کو اس کے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی۔ تحقیقات کے مطابق بروک کو آخری بار اپنی والدہ کے ساتھ ہی ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر دیکھا گیا تھا۔ اس وقت شینن اینڈرسن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ چند لمحوں کے لیے واش روم گئیں اور جب واپس آئیں تو بیٹی غائب تھی۔ تاہم بروک کی خالہ ڈی اینا اینڈرسن نے اس بیان کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گمشدگی کی اطلاع فوری دینے کے بجائے کئی ہفتوں بعد دی گئی، جس سے تفتیش کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔

ڈی اینا کا مزید کہنا تھا کہ گمشدگی کے وقت بروک اور اس کی والدہ دونوں بے گھر تھیں اور منشیات کی لت کا شکار تھیں، جس کے باعث نوجوان لڑکی پہلے ہی خطرناک حالات میں زندگی گزار رہی تھی۔ برسوں گزرنے کے بعد اب خاندان کی امیدیں ٹوٹ چکی ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ شاید بروک اب زندہ نہیں ہے۔ خالہ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بیٹی کے غائب ہونے کے بعد اس کے نام پر حکومتی امداد بٹورنا ایک ناقابلِ قبول اور شرمناک عمل ہے۔پولیس حکام کے مطابق ملزمہ شینن اینڈرسن اس وقت 22 ہزار ڈالر کے مچلکوں کے تحت جیل میں قید ہیں۔ ان پر فوڈ اسٹامپ فراڈ کے علاوہ جنسی مجرموں کی رجسٹریشن سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ بروک اینڈرسن کی گمشدگی لگ بھگ ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی  آج ایک گہرا معمہ بنی ہوئی ہے۔