LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل ہونگی دوبارہ فوجی ایکشن سے سفارتکاری کا وقت آگیا، دباؤ بڑھا کر امریکا رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا: ایران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کا نظام ابھر رہا ہے، محسن رضائی پاکستان کا اہم فیصلہ: بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی میں 24 ستمبر 2026 تک توسیع روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا خطے میں کشیدگی: متحدہ عرب امارات نے ایران سے تمام تجارتی، مالی معاملات معطل کر دیئے

آئندہ چند روز میں امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں: اسماعیل بقائی

Web Desk

29 June 2026

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات طے نہیں ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امریکا سے مذاکرات کی ذمہ دار ایرانی ٹیم جلد ہی دوحہ (قطر) کا دورہ ضرور کرے گی، تاہم اس دورے کا مقصد نئے مذاکرات کا آغاز کرنا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دورے کا واحد مقصد فریقین کے درمیان پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینا اور اس پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لینا ہے۔

اسماعیل بقائی نے ان افواہوں کو بھی مسترد کر دیا کہ قطر میں دونوں وفود کی ملاقات ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ انھی دنوں قطر جانے والے امریکی نمائندوں کے دورے کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ دونوں الگ الگ معاملات ہیں۔