LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار کینیا میں سیاحوں کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 5 امریکیوں سمیت 7 افراد ہلاک راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت، افواجِ پاکستان کا زبردست خراج عقیدت

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے، ترک صدر

Web Desk

29 June 2026

ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ مسئلہ فلسطین ہے، اور جب تک اسرائیل کی جانب سے فلسطینی زمینوں پر ناجائز قبضے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، خطے میں امن کا قیام ناممکن ہے۔

استنبول میں نیٹو (NATO) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی فارمولے میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1967ء کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مکمل فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ صدر اردوان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں خاص طور پر غزہ اور لبنان میں ہونے والے بھیانک واقعات نے انسانیت کے ضمیر پر گہرے زخم چھوڑے ہیں، جس سے بین الاقوامی اداروں اور عالمی نظریات کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکیہ لبنان پر ہونے والے حملوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے نیٹو کی سکیورٹی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کی ‘360 ڈگری سکیورٹی پالیسی’ کا اصل مطلب یہ ہے کہ اتحاد کو یوکرین کے ساتھ ساتھ خلیج اور فلسطین کے حالات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ ترک صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ترکیہ، پاکستان، قطر اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ایک مستقل اور پائیدار حل میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

صدر اردوان نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں نیٹو کی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنا اور اتحادی ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے، اور ترکیہ نے نئے دور کی ان تلخ حقیقتوں کو بیشتر ممالک سے بہتر انداز میں سمجھا ہے۔ واضح رہے کہ ترک صدر غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کو مسلسل ہدفِ تنقید بناتے رہے ہیں، اور سال 2024ء میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس وقت شدید لفظی جنگ دیکھنے میں آئی تھی جب صدر اردوان نے غزہ میں جاری خونریزی رکوانے کے لیے ترکیہ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کا اشارہ دیا تھا۔