LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جامشورو میں 8 ماہ کی حاملہ خاتون کاروکاری کے نام پر قتل مشرق وسطیٰ کی صورتحال، وزیر داخلہ محسن نقوی اہم دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے، ترک صدر پاکستان کا سلامتی کونسل سے فلسطین میں اسرائیلی آبادکاریاں فوری روکنے کا مطالبہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے استحکام کیلئے نیا فنڈ قائم کر دیا حکومت کا 2027ء تک سود سے پاک مالی نظام کی تیاری کا فیصلہ, مالیاتی استحکام برقرار رکھتے ہوئے تبدیلی کا عمل مکمل کیا جائے گا، وزارت خزانہ ٹرمپ کا آج قطر میں مذاکرات کا اعلان، ایران نے تردید کر دی قطر میں منجمد 12 ارب ڈالرز میں نصف رقم جلد ہمارے حوالے کردی جائے گی؛ ایرانی صدر مالی سال کے آخری ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 48 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئے جنوبی لبنان سے انخلا حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط ہے: اسرائیل ایران نے قطر میں امریکا سے مجوزہ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی کہوٹہ میں قیدیوں کی وین سے 14 فرار، 4 دوبارہ گرفتار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، 6 وکلا کی فہرست جیل حکام کو جمع سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر کا آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی پر زور پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ، کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: حکومتِ پاکستان

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے، ترک صدر

Web Desk

29 June 2026

ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ مسئلہ فلسطین ہے، اور جب تک اسرائیل کی جانب سے فلسطینی زمینوں پر ناجائز قبضے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، خطے میں امن کا قیام ناممکن ہے۔

استنبول میں نیٹو (NATO) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی فارمولے میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1967ء کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مکمل فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ صدر اردوان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں خاص طور پر غزہ اور لبنان میں ہونے والے بھیانک واقعات نے انسانیت کے ضمیر پر گہرے زخم چھوڑے ہیں، جس سے بین الاقوامی اداروں اور عالمی نظریات کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکیہ لبنان پر ہونے والے حملوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے نیٹو کی سکیورٹی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کی ‘360 ڈگری سکیورٹی پالیسی’ کا اصل مطلب یہ ہے کہ اتحاد کو یوکرین کے ساتھ ساتھ خلیج اور فلسطین کے حالات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ ترک صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ترکیہ، پاکستان، قطر اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ایک مستقل اور پائیدار حل میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

صدر اردوان نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں نیٹو کی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنا اور اتحادی ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے، اور ترکیہ نے نئے دور کی ان تلخ حقیقتوں کو بیشتر ممالک سے بہتر انداز میں سمجھا ہے۔ واضح رہے کہ ترک صدر غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کو مسلسل ہدفِ تنقید بناتے رہے ہیں، اور سال 2024ء میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس وقت شدید لفظی جنگ دیکھنے میں آئی تھی جب صدر اردوان نے غزہ میں جاری خونریزی رکوانے کے لیے ترکیہ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کا اشارہ دیا تھا۔