LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

امریکا: غیرمعمولی جِلد کی بیماری کے پھیلاؤ پر ماہرین پریشان

Web Desk

27 June 2026

امریکا کے مختلف مضافاتی علاقوں میں گلہریوں میں ایک انتہائی غیر معمولی اور تشویشناک جلدی بیماری کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث ان کے پورے جسم پر بڑی بڑی رسولیاں (ٹیومرز) بن رہی ہیں۔ جنگلی حیات کے ماہرین نے ان متاثرہ گلہریوں کی بدلی ہوئی خوفناک شکل و صورت کی وجہ سے انہیں غیر رسمی طور پر ’زومبی گلہریوں‘ کا نام دیا ہے۔ ماہرینِ حیاتیات کے مطابق، گلہریوں میں پیدا ہونے والی یہ مخصوص عارضہ یا کیفیت دراصل ’اسکوئرل فائبرومیٹوسس‘ (Squirrel Fibromatosis) نامی ایک وائرل بیماری کی وجہ سے سامنے آ رہی ہے، جو بنیادی طور پر ’لیپوری پاکس وائرس‘ (Leporipoxvirus) کے انفیکشن کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔ یہ خطرناک وائرس ایک متاثرہ گلہری کے کھلے زخموں، جلد یا لعاب (تھوک) کے براہِ راست رابطے میں آنے سے دوسری صحت مند گلہریوں میں انتہائی تیزی سے منتقل ہو سکتا ہے۔

اس وائرل بیماری کے نتیجے میں گلہریوں کے جسم، چہرے اور اعضاء پر مسوں جیسے بڑے ابھار اور رسولیاں بن جاتی ہیں، جن سے بعض اوقات لیسدار رطوبت بھی خارج ہوتی ہے جو دوسری گلہریوں کے لیے انفیکشن پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔ جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی متاثرہ گلہریاں مضبوط مدافعت کے باعث کسی طبی علاج کے بغیر بھی خود بخود صحت یاب ہو جاتی ہیں؛ تاہم، شدید انفیکشن کی صورتوں میں یہ رسولیاں گلہری کے جسم کے اندرونی اعضا تک پھیل جاتی ہیں، جو ان کے بینائی، حرکت اور نظامِ ہضم کو مفلوج کر کے آخر کار جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔

طبی ماہرین نے یہاں ایک اہم تزویراتی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیماری کو ’اسکوئرل پاکس‘ (Squirrelpox) سے ہرگز کنفیوژ یا خلط ملط نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اسکوئرل پاکس ایک بالکل الگ بیماری ہے جو برطانیہ میں عام ہے اور خاص طور پر وہاں پائی جانے والی سرخ گلہریوں کے لیے انتہائی مہلک سمجھی جاتی ہے۔ امریکا میں پھیلنے والی یہ نئی لہر اس وقت جنگلی حیات کی صحت پر نظر رکھنے والے تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے لیے گہری تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے؛ اسی وجہ سے متعلقہ حکام نے عام شہریوں اور پالتو جانوروں کے مالکان کو سخت تادیبی ہدایت جاری کی ہے کہ اگر انہیں اپنے آس پاس ایسی کوئی بھی متاثرہ گلہری نظر آئے، تو اسے ہاتھ لگانے، ریسکیو کرنے یا خوراک دینے سے مکمل گریز کریں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔