LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی چین نے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا امریکا کیساتھ معاہدہ: روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا

ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی

Web Desk

28 October 2026

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت کسی بھی جوہری تنصیب کی مرمت یا بحالی کی کوئی علامت سامنے نہیں آئی۔

سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے رافیل گروسی نے بتایا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے عالمی معائنہ کاروں کو ایران کی متاثرہ جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی ہے، جس کے باعث وہاں موجود جوہری مواد کے ممکنہ انحراف یا سلامتی کی تصدیق کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو جوہری مواد کی کڑی نگرانی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں ہر صورت پوری کرنا ہوں گی۔ آئی اے ای اے کے سربراہ نے بتایا کہ عمان، پاکستان، قطر اور مصر اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے اہم اور فعال سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔

رافیل گروسی نے ایران اور ایجنسی کے درمیان طے پانے والے 2025 کے قاہرہ معاہدے پر دوبارہ مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معائنہ کاروں کی فوری واپسی اور جوہری تنصیبات کی آزادانہ تصدیق کے لیے سفارت کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی پائیدار اور قابلِ اعتماد معاہدے کے لیے آئی اے ای اے کی مؤثر اور بلاتعطل نگرانی بنیادی شرط ہے۔