روس: پیٹرول کی قلت سے نمٹنے کیلئے ڈرائیور گولیاں استعمال کرنے لگے
Web Desk
25 June 2026
روس کے کئی اہم علاقوں میں ایندھن (پٹرول و ڈیزل) کے ملکی ذخائر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے باعث کہیں پٹرول کی عام فروخت پر سخت پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، تو کہیں مارکیٹ میں طلب کم کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہی ہے۔ اس نئی اور پریشان کن صورتِ حال میں ایندھن کی قلت سے گھبرائے ہوئے روسی ڈرائیور اب ایسے نام نہاد ’جادوئی نسخوں‘ اور گولیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں جن سے متعلق انٹرنیٹ پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ گاڑی کی فیول مائلیج بڑھا کر پٹرول کی کھپت کو واضح طور پر کم کر دیتی ہیں۔
روس کے مقبول ٹیلی گرام نیوز چینل ‘بازا’ (Baza) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ محض ایک ماہ کے دوران روس کے مقامی بازاروں اور انٹرنیٹ پر ان نام نہاد ’فیول ٹیبز‘ (Fuel Tabs) کی فروخت میں یکدم ڈھائی گنا کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ روسی سوشل میڈیا پر بھی ان دنوں ان متنازع کیمیکل مصنوعات کا چرچا تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ’بُقا‘ (Buka) اور ’بیأایکو‘ (BeEko) جیسے مقامی برانڈز کے تحت فروخت ہونے والی یہ چھوٹی گولیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ جب انہیں پٹرول ٹینک میں ڈالا جاتا ہے، تو یہ انجن کے اندر ایندھن کے جلنے (Combustion Process) کے عمل کو غیر معمولی طور پر زیادہ مؤثر، تیز اور مستحکم بنا دیتی ہیں، جس کے براہِ راست نتیجے میں پٹرول کی مجموعی کھپت کم ہو جاتی ہے۔ یہ مخصوص گولیاں روس میں تقریباً ہر بڑے پٹرول پمپ اور آٹو شاپ پر 50 سے 80 روبل (تقریباً 70 سینٹس سے 1.1 امریکی ڈالر) کی سستی قیمت میں عام دستیاب ہیں۔ مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے مطابق، محض ایک چھوٹی گولی 200 لیٹر تک پٹرول کے حجم پر اثر انداز ہونے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ بعض وائرل برانڈز تو یہاں تک مضحکہ خیز دعوے بھی کر رہے ہیں کہ ان کی گولی کم معیار کے سستے ’اے آئی-92‘ (AI-92) گریڈ پٹرول کو ریفائن کر کے فوری طور پر ہائی اوکٹین یعنی ’اے آئی-95‘ (AI-95) پٹرول کے برابر بنا سکتی ہے۔ ان تمام دلکش دعوؤں کے باوجود، اب تک سائنسی یا تکنیکی طور پر یہ بالکل واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ گولیاں حقیقت میں انجن کے اندر کس طرح کام کرتی ہیں۔ آٹو موبائل انجینئرز اور گاڑیوں کے ماہرین نے روسی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ان گولیوں میں شامل نامعلوم اضافی کیمیکلز پٹرول پمپس سے ملنے والے ایندھن میں پہلے سے موجود کمپنی ایڈیٹیوز (Additives) کے ساتھ کیمیائی ردِعمل (Chemical Reaction) پیدا کر سکتے ہیں۔ اس ردِعمل کے نتیجے میں گاڑی کے انتہائی حساس فیول انجیکٹرز، پسٹن یا انجن کے دیگر اندرونی حصوں کو مستقل اور شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
شعبہ آٹو کے بہت سے سینئر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایندھن بچانے والی گولیاں دراصل کچھ اور نہیں بلکہ محض ایک ’انجن پلیسبو‘ (Engine Placebo) یعنی ایک ایسا نفسیاتی دھوکا ہیں، جو صرف اور صرف پٹرول کے موجودہ بحران سے پریشان حال اور مجبور گاڑی مالکان کی جیبیں ہلکی کرنے اور فائدہ اٹھانے کے لیے بیچا جا رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
پنجاب: زمینوں پر قبضوں کیخلاف ٹربیونلز ہفتے سے کارروائیاں شروع کرینگے
25 June 2026
اسلام آباد، خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 5.4 شدت کا زلزلہ
22 June 2026
معروف ترک اداکارہ ایجے ارتیم 35 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
16 June 2026
گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی 10، آزاد امیدوار 7 اور ن لیگ 4 نشستوں پر کامیاب
8 June 2026
نیویارک: پین اسٹیشن پر چاقو حملہ، 5 افراد زخمی، ملزم گرفتار
8 June 2026
ایران فٹبال ٹیم کو امریکہ کے ویزے جاری، ورلڈ کپ میں شرکت کی راہ ہموار
5 June 2026
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملے جاری، مزید 4 افراد جاں بحق
2 June 2026
متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا
31 May 2026