LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کراچی: بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم پولیس کی حراست میں جاں بحق آبنائے ہرمز کی ٹریفک معمول کی طرف واپس آ گئی ہے، میری ٹائم ٹریکر قطر و سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال برازیل نے سکاٹ لینڈ کو 0-3 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی امریکہ سمیت مختلف ممالک میں 7.5 شدت کا زلزلہ، وینزویلا میں 10 ہزار سے زائد اموات کا خدشہ، سونامی وارننگ جاری اٹلی نے ایران جنگ میں امریکہ کو مدد فراہم کرنے کا نیٹو چیف کا بیان مسترد کر دیا مارک روٹے کا بیان جنگ میں نیٹو کی فعال شمولیت کا واضح اور سنگین اعتراف ہے، ایران اٹلی نے اپنے علاقوں سے 500 امریکی طیاروں کو پرواز کی اجازت دی، نیٹو چیف قطر کا فیفا ورلڈ کپ میں سفر اختتام پذیر، بوسنیا نے 1-3 سے شکست دے دی فیفا کپ: ہیٹی کو 2-4 سے شکست، مراکش نے ناک آؤٹ مرحلے کیلئے کوالیفائی کر لیا ایران اور چین نے جنوبی افریقہ کے سفارتی تعلقات پر امریکی تنقید مسترد کر دی مفاہمت سے متعلق متضاد امریکی بیانات تہران کے واشنگٹن پر عدم اعتماد میں اضافہ کریں گے، ایران ایرانی صدر کی خطے کے امن میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کی تعریف فیفا نے قطر کے فٹبالر عاصم مدیبو پر 5 میچز کی پابندی عائد کر دی گوگل سرچ ٹریفک کم ہونے کی وجہ سامنے آگئی

قطر و سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال

Web Desk

25 June 2026

قطری وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ اعلامیے کے مطابق، دونوں برادر ممالک کے اعلیٰ ترین سفارت کاروں نے خلیج کے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے، امن و امان کے قیام اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے فون پر خصوصی گفتگو کی۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی نئی مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا اور خطے میں پائیدار سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے کی مشترکہ کوششوں پر غور کیا۔

سفارتی ماہرین کے مطابق، دونوں خلیجی طاقتوں کے درمیان ہونے والی یہ اہم بات چیت واشنگٹن اور تہران کے درمیان مہینوں سے جاری شدید عسکری و سیاسی تنازع کے بعد خلیجی ریاستوں کی طرف سے امن بحال کرنے کے وسیع تر اور سنجیدہ سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔