LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ،تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق فیلڈ مارشل سے جمہوریہ کانگو کے دفاعی وفد کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا

آبنائے ہرمز کی ٹریفک معمول کی طرف واپس آ گئی ہے، میری ٹائم ٹریکر

Web Desk

25 June 2026

ایک معروف بین الاقوامی میری ٹائم ٹریکر کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بحری ٹریفک اب تیزی سے معمول کی طرف واپس آ رہی ہے اور تجارتی مال بردار سمیت تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت احتیاط کے ساتھ بحال ہو رہی ہے۔

برسلز میں قائم مانیٹرنگ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، 23 جون کو ریکارڈ 31 بحری جہازوں نے کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو عبور کیا ہے۔ ان میں عالمی تجارتی سامان اور توانائی (خام تیل و گیس) سے منسلک دونوں اقسام کے جہاز شامل ہیں جو اب بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی اگلی منزلوں کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔

ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے زیادہ تر بحری جہاز مغرب سے مشرق کی سمت سفر کر رہے ہیں اور اس نقل و حمل کے لیے ایرانی، عمانی اور بین الاقوامی بحری راستے (لینز) استعمال کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کا تمام تر عمل حال ہی میں طے پانے والی امریکہ-ایران مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تحت وضع کردہ اصولوں کے مطابق چلایا جا رہا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں پھیلاؤ کا خدشہ کم ہوا ہے۔