LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو سانحہ بلدیہ تفصیلی فیصلہ جاری, سزائے موت پانے والے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر

میانمار کی فوج نے 6 ماہ میں 700 سے زائد شہری مار ڈالے: اقوام متحدہ

Web Desk

23 June 2026

اقوامِ متحدہ (UN) نے میانمار کی موجودہ صورتحال پر ایک انتہائی ہولناک اور چشم کشا تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میانمار کی فوجی حکومت (جنتا) گزشتہ سال ہونے والے انتخابی عمل کے دوران محض چھ ماہ کے مختصر عرصے میں 700 سے زائد معصوم شہریوں کے قتلِ عام کی براہِ راست ذمہ دار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) کے مطابق، یہ ہلاکتیں فوجی بربریت، طاقت کے وحشیانہ استعمال اور بلاامتیاز فضائی بمباری کا نتیجہ ہیں۔

عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ اس تفصیلی رپورٹ کے اہم ترین اور لرزہ خیز مندرجات درج ذیل ہیں:

رپورٹ کے مطابق، اگست 2025 سے جنوری 2026 تک کے عرصے میں فوج کے ہاتھوں کم از کم 702 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ان ہلاک شدگان میں 224 خواتین اور 153 معصوم بچے بھی شامل تھے۔ شہری آبادیوں پر کیے جانے والے فضائی حملے ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ بنے۔ مجموعی ہلاکتوں میں سے کم از کم 505 افراد جنگی طیاروں، مہلک ڈرونز، پیرا موٹرز اور ہیلی کاپٹرز کی بمباری کی زد میں آکر مارے گئے، جن میں 175 خواتین اور 112 بچے شامل تھے۔ اقوامِ متحدہ کی ترجمان روینا شمداسانی نے جنیوا میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ رپورٹ میں درج 702 ہلاکتیں وہ ہیں جو براہِ راست میانمار کی فوج سے منسوب ہیں، جبکہ خانہ جنگی میں مصروف دیگر مسلح گروہوں کے ہاتھوں ہونے والی اموات اس میں شامل نہیں ہیں۔ اس لیے اصل جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میانمار میں 2021 کی فوجی بغاوت (منتخب حکومت کا تختہ الٹنے) کے بعد سے جاری خانہ جنگی کے دوران فوجی حکومت نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط دکھانے کے لیے محدود انتخابات کا ڈھونگ رچایا، جسے عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انتخابی عمل کے دوران دو ادوار ایسے تھے جب شہریوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا  جب فوجی حکومت کی جانب سے ملک میں عام انتخابات کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور احتجاج کچلنے کے لیے آپریشن تیز ہوا۔ جب میانمار کی فوج باغیوں کے ہاتھوں چھن جانے والے مختلف علاقوں پر دوبارہ اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اندھا دھند طاقت کا استعمال کر رہی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے میانمار کے اس بحران کو خطے کا سب سے سنگین ترین انسانی المیہ قرار دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل مطالبات کیے ہیں: میانمار کی صورتحال کو فوری طور پر عالمی عدالتِ انصاف (ICJ/ICC) کے سامنے پیش کیا جائے، اور فوجی جنتا کو ہتھیاروں، جیٹ فیول (جنگی طیاروں کا ایندھن) اور ہر قسم کے فوجی ساز و سامان کی فراہمی کو فوری طور پر روک دیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مزید دھجیاں نہ اڑا سکے۔