میانمار کی فوج نے 6 ماہ میں 700 سے زائد شہری مار ڈالے: اقوام متحدہ
Web Desk
23 June 2026
اقوامِ متحدہ (UN) نے میانمار کی موجودہ صورتحال پر ایک انتہائی ہولناک اور چشم کشا تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میانمار کی فوجی حکومت (جنتا) گزشتہ سال ہونے والے انتخابی عمل کے دوران محض چھ ماہ کے مختصر عرصے میں 700 سے زائد معصوم شہریوں کے قتلِ عام کی براہِ راست ذمہ دار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) کے مطابق، یہ ہلاکتیں فوجی بربریت، طاقت کے وحشیانہ استعمال اور بلاامتیاز فضائی بمباری کا نتیجہ ہیں۔
عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ اس تفصیلی رپورٹ کے اہم ترین اور لرزہ خیز مندرجات درج ذیل ہیں:
رپورٹ کے مطابق، اگست 2025 سے جنوری 2026 تک کے عرصے میں فوج کے ہاتھوں کم از کم 702 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ان ہلاک شدگان میں 224 خواتین اور 153 معصوم بچے بھی شامل تھے۔ شہری آبادیوں پر کیے جانے والے فضائی حملے ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ بنے۔ مجموعی ہلاکتوں میں سے کم از کم 505 افراد جنگی طیاروں، مہلک ڈرونز، پیرا موٹرز اور ہیلی کاپٹرز کی بمباری کی زد میں آکر مارے گئے، جن میں 175 خواتین اور 112 بچے شامل تھے۔ اقوامِ متحدہ کی ترجمان روینا شمداسانی نے جنیوا میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ رپورٹ میں درج 702 ہلاکتیں وہ ہیں جو براہِ راست میانمار کی فوج سے منسوب ہیں، جبکہ خانہ جنگی میں مصروف دیگر مسلح گروہوں کے ہاتھوں ہونے والی اموات اس میں شامل نہیں ہیں۔ اس لیے اصل جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میانمار میں 2021 کی فوجی بغاوت (منتخب حکومت کا تختہ الٹنے) کے بعد سے جاری خانہ جنگی کے دوران فوجی حکومت نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط دکھانے کے لیے محدود انتخابات کا ڈھونگ رچایا، جسے عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انتخابی عمل کے دوران دو ادوار ایسے تھے جب شہریوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا جب فوجی حکومت کی جانب سے ملک میں عام انتخابات کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور احتجاج کچلنے کے لیے آپریشن تیز ہوا۔ جب میانمار کی فوج باغیوں کے ہاتھوں چھن جانے والے مختلف علاقوں پر دوبارہ اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اندھا دھند طاقت کا استعمال کر رہی تھی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے میانمار کے اس بحران کو خطے کا سب سے سنگین ترین انسانی المیہ قرار دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل مطالبات کیے ہیں: میانمار کی صورتحال کو فوری طور پر عالمی عدالتِ انصاف (ICJ/ICC) کے سامنے پیش کیا جائے، اور فوجی جنتا کو ہتھیاروں، جیٹ فیول (جنگی طیاروں کا ایندھن) اور ہر قسم کے فوجی ساز و سامان کی فراہمی کو فوری طور پر روک دیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مزید دھجیاں نہ اڑا سکے۔
متعلقہ عنوانات
حماس کا غزہ حکومت سے دستبرداری کا اعلان، انتظامی کمیٹی تحلیل
6 July 2026
پری کوارٹر فائنل میں شکست ، برازیل فیفا ورلڈ کپ سے باہر ، اسٹار کھلاڑی نیمار کا ریٹائرمنٹ کا اعلان
6 July 2026
اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی
5 July 2026
یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں
5 July 2026
اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
5 July 2026
مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف
5 July 2026
سمندر کے بیچ کھڑی کشتی میں اچانک خوفناک آتشزدگی
5 July 2026
ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن
5 July 2026