LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

ٹرمپ انتظامیہ نے مفاہمت کی پہلی شق پر عمل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا، ابراہیم عزیزی

Web Desk

20 June 2026

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے حوالے سے سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی پہلی ہی شق پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس شق کے تحت دونوں فریقین نے تمام محاذوں، بشمول لبنان میں فوری اور مستقل فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر اتفاق کیا تھا۔

ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے اس بنیادی شق پر عمل نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، جن میں معاہدے کی خلاف ورزیوں پر ایران کی طرف سے ایک سمجھدار اور دفاعی ردعمل بھی شامل ہو سکتا ہے۔