سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان
Web Desk
19 June 2026
پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کی تقسیم کے تاریخی ‘سندھ طاس معاہدے’ (Indus Waters Treaty) کے حوالے سے اسلام آباد نے ایک انتہائی بڑا اور اہم تزویراتی قدم اٹھایا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نائب وزیراعظم کا ایک خصوصی اور تفصیلی مکتوب سلامتی کونسل کی صدر لیونور زالباتا ٹوریس کے حوالے کیا ہے، جس میں نئی دہلی کے ان اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو پاکستان کے آبی تحفظ، غذائی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے شدید خطرہ بن رہے ہیں۔
سفیر عاصم افتخار کے مطابق، سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں دریائے چناب کے واٹر سسٹم پر بھارت کے دو انتہائی خطرناک اور غیر قانونی انفراسٹرکچر منصوبوں کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے:
بھارتی میڈیا کے مطابق، نئی دہلی یکم اگست سے چناب پر 26.2 ارب بھارتی روپے کی لاگت سے اس منصوبے پر کام شروع کر رہا ہے۔ اس کا مقصد چناب کا اضافی پانی موڑ کر ‘بیاس بیسن’ میں منتقل کرنا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق، بھارت سالانہ 1.9 ملین ایکڑ فٹ پانی پاکستان کے حصے کے دریا سے منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو معاہدے کی روح کے بالکل منافی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے ضلع ریاسی میں واقع سالال ڈیم پر مٹی کی صفائی (Slit Flushing) کا یہ منصوبہ بھی انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ اس کے ذریعے بھارت کو پانی کے بہاؤ پر ایسا کنٹرول حاصل ہو جائے گا جو نہ تو سندھ طاس معاہدے اور نہ ہی 1978 کے سالال معاہدے کے تحت جائز ہے۔
“بھارت کے ان اقدامات سے واضح ہے کہ وہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ کو تبدیل کر کے پانی کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار (Water Weaponization) استعمال کر رہا ہے، جس کے علاقائی اور عالمی امن پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔” – مکتوبِ پاکستان برائے سلامتی کونسل1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ تین مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو اور تین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو دیتا ہے۔ یہ معاہدہ پاک بھارت جنگوں میں بھی برقرار رہا، مگر حالیہ سالوں میں بھارت کی آبی جارحیت نے اسے شدید خطرے میں ڈال دیا ہےبھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا متنازع اعلان کیا، جس سے دونوں ممالک کے مابین شدید سفارتی بحران پیدا ہوا۔بین الاقوامی عدالت (Permanent Court of Arbitration) نے اپنے ایک ضمنی فیصلے میں واضح کیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔عدالت نے مقبوضہ کشمیر میں ‘رتلے’ اور ‘کشن گنگا’ ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کے ڈیزائن تنازع پر فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ معاہدہ مغربی دریاؤں پر بھارت کی پانی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر واضح حدود عائد کرتا ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل کو خط لکھ کر بھارت کو عالمی قوانین کا پابند بنانے اور چناب سے پانی موڑنے کا منصوبہ روکنے کا مطالبہ کیا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ کے پورے نظام پر بھارت کے کم از کم 17 زیرِ غور منصوبے ایسے ہیں جو نئی دہلی کو پاکستان کے خلاف ‘آبی بالادستی’ کے خطرناک آلات فراہم کر سکتے ہیں۔ اس تشویش کو بھارتی وفاداری کے ان بیانات سے مزید تقویت ملتی ہے جن میں بھارتی وفاقی وزراء نے گاہے بگاہے یہ دعویٰ کیا ہے کہ “بھارت پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان کی طرف جانے نہیں دے گا۔”
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کی صدر کو جنوبی ایشیا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور مسئلہ جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھارت کی مسلسل عدم عملداری سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا ہے، تاکہ عالمی برادری وقت رہتے اس بگڑتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کا تدارک کر سکے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل
12 July 2026
آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت
12 July 2026
واشک میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 5 افراد جاں بحق
12 July 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع
12 July 2026
بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ
12 July 2026
جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ
12 July 2026
قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت
12 July 2026
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات
12 July 2026