LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران معاہدہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے: ٹرمپ، امیر قطر سے گفتگو کشمیر میں فارن فنڈڈ تنظیم مہاجرین نشستوں پر بلیک میل کر رہی ہے: خواجہ آصف پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ

وزن اٹھانا انسانوں کیلئے کتنا مفید ہے؟

Web Desk

16 June 2026

ایک نئی طبی تحقیق میں یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ویٹ ٹریننگ (وزن اٹھانا) اور مزاحمتی ورزشیں (ریزسٹنس ٹریننگ) انسان کی عمر بڑھانے، مجموعی صحت کو بہتر بنانے اور قبل از وقت موت کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کرنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تزویراتی تحقیق میں امریکا کے 1 لاکھ 47 ہزار سے زائد بالغ افراد کے طویل المدتی اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ یہ اہم معلومات اور ڈیٹا تین بڑے قومی طبی مطالعات سے حاصل کی گئیں جو مجموعی طور پر تقریباً 30 سال کے طویل عرصے تک جاری رہے۔ اس طویل تحقیقی مہم کے دوران 35 ہزار سے زائد شرکا قدرتی یا طبی وجوہات کی بنا پر انتقال کر گئے، جس کے باعث سائنس دانوں کو مختلف طرزِ زندگی، ورزش کی عادات اور صحت کے حتمی نتائج کا گہرائی سے موازنہ کرنے کا ایک بہترین موقع ملا۔

تحقیق کے دوران شرکا نے باقاعدگی سے اپنا ڈیٹا فراہم کیا کہ وہ ہر ہفتے کتنی دیر مزاحمتی ورزشیں کرتے ہیں، جن میں فری ویٹ لفٹنگ، جدید جم کی مشینوں کے ذریعے کی جانے والی ورزشیں اور پٹھوں کی طاقت بڑھانے والی دیگر جسمانی سرگرمیاں شامل تھیں۔ اس ڈیٹا کے ساتھ ساتھ محققین نے پیدل چلنے، سائیکل چلانے، جاگنگ اور تیراکی (سوئمنگ) جیسی روایتی ایروبک ورزشوں کا تفصیلی ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں، ماہرینِ صحت نے ورزش کی ان مختلف عادات کا موازنہ دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات سے کیا، جن میں دل کے جان لیوا امراض، کینسر، فالج، سانس کی دائمی بیماریوں اور اعصابی امراض (جیسے الزائمر) سے ہونے والی اموات شامل تھیں۔

طبی تجزیے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد ہر ہفتے معتدل مقدار میں بھی مزاحمتی ورزشیں کرتے ہیں، ان میں کسی بھی مرض کے باعث ہونے والی موت کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں واضح طور پر کم تھا۔ سب سے حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ ورزش کا یہ بے پناہ فائدہ عمر، تمباکو نوشی کی عادت، روزمرہ خوراک، الکحل کے استعمال، خاندانی طبی تاریخ (جینٹکس) اور دیگر عام جسمانی سرگرمیوں جیسے تمام عوامل اور فرق کو مدنظر رکھنے اور ان کا اثر نکالنے کے بعد بھی مکمل طور پر برقرار رہا۔ سائنسی ماہرین کے مطابق، یہ جامع تحقیق اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرتی ہے کہ پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں صرف ظاہری جسمانی طاقت یا خوبصورتی میں اضافہ نہیں کرتیں، بلکہ خلیاتی سطح پر مجموعی مدافعتی نظام کو بہتر بنا کر انسانی زندگی کو طویل، صحت مند اور قبل از وقت اموات سے محفوظ بنا سکتی ہیں۔