LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا معاہدے کے تحت ایران کو فوری طور پر تیل فروخت کی اجازت دی جائے گی، امریکی اخبار برطانوی پارلیمنٹ کا جنگ بندی کیلئے سفارتی کامیابی پر پاکستان کو زبردست خراج تحسین

انڈسٹری کو ایسے بیانیے پر کام کرنا چاہیے جو معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں، ثانیہ ثعید

Web Desk

13 June 2026

کراچی: پاکستان کی مایہ ناز اور ورسٹائل تھیٹر، ٹیلی ویژن و فلموں کی سینئر اداکارہ ثانیہ سعید نے کہا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری کو صرف تجارتی (کمرشل) کامیابی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اب ایسے بیانیے اور موضوعات پر کام کرنا چاہیے جو ہمارے معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں کھل کر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انڈسٹری کے بدلتے معیار، آزاد فلم سازی کی مشکلات اور اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کیے۔

ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ آج کل ڈراموں اور فلموں کی کاسٹنگ میں اداکاروں کی صلاحیت کے بجائے ان کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد کو اہمیت دی جا رہی ہے، جو کہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبولیت اور فن دو الگ چیزیں ہیں۔ کیمرہ ایک بہت ہی سچا اور سخت ذریعہ ہے، وہ جھوٹ کو فوراً پکڑ لیتا ہے، اس لیے لاکھوں فالوورز کبھی بھی ایک اچھے اور منجھے ہوئے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

 ثانیہ سعید نے سوال اٹھایا کہ: “ہم فلمیں بنانا تو شروع ہو گئے ہیں، لیکن انہیں لگائیں گے کہاں؟ ملک میں عام آدمی کی پہنچ میں سنیما گھر تو موجود ہی نہیں ہیں”۔ ان کے مطابق آزاد اور غیر روایتی فلمیں آج بھی ڈسٹری بیوشن اور اسکرینز تک رسائی کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بہت سی اہم فلمیں فلم سازوں کے ذاتی جذبے اور قربانی سے بنتی ہیں کیونکہ ڈسٹری بیوٹرز اور سنیما مالکان ان میں مالی سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ذاتی پیشہ ورانہ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ: “میں خود ایک پروجیکٹ کی پروڈکشن کی وجہ سے مقروض ہو گئی ہوں۔ جب یہ قرضہ اترے گا تو ہی پروڈکشن کا کام دوبارہ سے شروع کروں گی”۔

انڈسٹری میں سینئر اداکاروں کو نظرانداز کیے جانے کے تاثر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک نیا متبادل مؤقف پیش کیا: “ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ انڈسٹری میں عمر کے حوالے سے امتیاز کا اصل مسئلہ سینئر اداکاروں کی ذات کا نہیں، بلکہ کہانیوں کے محدود ہونے کا ہے۔ جب ایک انڈسٹری مکمل طور پر کمرشل ہو جاتی ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب ہمارے رائٹرز اور پروڈیوسرز ہر عمر کے کرداروں کی کہانیاں اسکرین پر دکھا ہی نہیں رہے”۔